تحریر :قراة العین
میں نے اپنی زندگی میں سب سے مظلوم طبقہ خواجہ سراؤں کا دیکھا ہے جن کی پیدائش تو ہم جیسی ہی ہوتی ہے اور پیدائش کی خوشی بھی لیکن جیسے ہی گھر والو کو پتہ چلتا ہمارے ہاں تیسری جنس ہے اس وقت تمام محبت جان نچھاور کرنے والے رشتے ساتھ چھوڑ کر گھر سے نکال دیتے ہیں اگر والدین قبول کربھی لیں تو ہمارا معاشرہ طعنے دے دے کر خواجہ سراؤں سے ان کے والدین رشتے چھین لیتے ہیں تعلیم حاصل کرنے جائیں تو لوگو کی عجیب نگاہیں مار دیتی ہیں
تعارف کا موقع آئے تو نام کے بجائے جنس کا تعارف ہوتا ہے
رزق حلال کمانے نکلے تو بدترین جملے کسے جاتے بھیک مانگیں تو بدتمیزی بداخلاقی کی تمام حدیں پار کردی جاتی جنسی تعلقات قائم کرنے کےلئے مجبور کیا جاتا کہا جاتا تمہیں پیسے دینے سے اچھا ہے میں ضائع کر دوں تشدد ظلم کا نشانہ بنایا جاتا کوئی جنازہ نہیں پڑھتا فوت ہوجائیں مسجد میں اعلان نہیں کیا جاتا
کیا یہ ہمارے جیسے انسان نہیں کیا ان کو اسی الله نے نہیں بنایا جس الله نے ہمیں بنایا تو پھر کیوں ہم نے انہیں خود سے الگ کردیا جیسے یہ اس دنیا کے نہیں کسی اور دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ہم کیوں تعلیمی اداروں ، رزق حلال کمانے کی جگہوں پر انہیں برداشت نہیں کرسکتے ہم کیوں نہیں ان سے اسی اخلاق سے پیش آسکتے جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ اپناتے ان کا تو کوئی نہیں ہوتا یہ صرف اک میٹھے بول کی تلاش میں ہوتے ہیں مل جائے تو ہزاروں دعائیں دیتے چلے جاتے خدادارا انہیں اپنائے یہ ہماری ہی طرح کے ہیں کوئی حقیر مخلوق نہیں ان کو پیسے دیں نہ دیں لیکن حقیر نگاہوں سے نہ دیکھیں مسکرا کر دیکھ لیں یہ خوش ہوجاتے ہیں کسی کا دل دکھا کر اسکو طعنے دے کر تمسخر اڑا کر وقتی خوشی تو مل جاتی پر ہمیشہ کی نہیں ان سے اخلاق سے پیش آئیں ویسے بھی جو چیز کم ہو اس کی قدر و قیمت صلہ بھی بہت بڑا ہوتا ہے
@qurat_Writters
