تل ابیب: اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے جو 7 اکتوبر کو اسرائیلی حملے سے ایک دن پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ یحییٰ السنوار جو جولائی میں اسماعیل ہنیہ کے بعد حماس کی قیادت کر رہے تھے، اسرائیل کے بنیادی اہداف میں سے ایک تھے۔ سابق حماس سربراہ سنوار 17 اکتوبر کو رفح میں اسرائیلی فوجیوں کے حملے میں شہید ہوگئے۔
عالمی ملکی میڈیا رپورٹ کے اب اسرائیل نے یحیٰ السنوار کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔
السنوار 7 اکتوبر 2023 کے ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے جن میں 1200 سے زائد اسرائیلی باشندے مارے گئے اور 300 سے زائد باشندوں کو یرغمال بنالیا گیا۔
سابق حماس سربراہ تک اسرائیلی فوج نے کئی بار پہنچنے کی کوشش کی تاہم وہ کسی نہ کسی طور غچہ دے کر بچ نکلتے۔ وہ غزہ کی پٹی میں واقع سرنگوں کے نظام کے ذریعے خود کو بچاتے رہے۔
اب ان کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا کہ یحیٰ السنوار اپنے اہلخانہ کے ہمراہ زیر زمین سرنگ میں چہل قدمی کرتے ہوئے ایک بنکر میں سامان لے جا رہے ہیں جو بعد ازاں اسرائیلی فورسز کے ہاتھ لگا۔
اسرائیل ڈیفینس فورس کے ترجمان نداو شوشانی نے بیان میں کہا کہ حماس کے رہنما یحییٰ السنوار 7 اکتوبر کے حملے سے چند گھنٹے قبل حملے کی تیاری کر رہے تھے۔
ویڈیو میں یحیٰی السنوار کی اہلیہ اور بچوں کو سرنگ کے راستے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
