راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاک فوج خود احتسابی کے عمل پر یقین رکھتی ہے، پاک فوج کا خود احتسابی کا عمل الزامات کے بجائے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کے الزامات پر احتساب کیا جارہا ہے، ٹھوس شواہد کی بنا پر فیض حمید کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے، فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز کیا جاچکا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فیض حمید کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ ذاتی فائدے کے لیے ادارے کا استعمال ناقابل قبول ہے، اپنے مقاصد کے لیے ادارے کا استعمال کرنے والوں کا احتساب ہر صورت ہوگا، قومی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجز جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ خوارج کے خلاف جنگ آخری دہشتگرد کی موجودگی تک جاری رہے گی، دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف اس سال 32ہزار 173 آپریشنز کیے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 4ہزار 21 آپریشن کیے گئے، اور 90خوارج کو ہلاک کیا گیا ہے۔ دہشتگروں کے خلاف کارروائی میں 8ماہ کے دوران 193افسران اور جوان شہید ہوئے۔’25اور26اگست کو خوارج نے بلوچستان میں دہشتگردی کےحملے کیے، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران 14جوانوں نے جام شہادت نوش کیا‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ترقی اور عوامی بہبود کے کاموں میں بیرونی عناصر رکاوٹیں ڈالنے کے درپے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر130سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ ظالموں کو ہرصورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔
’بلوچستان میں 46ہزار کلو میٹر سے زائد ایریا دہشتگردوں سے آزاد کروادیا گیا ہے، زیادہ رقبے کی وجہ سے بلوچستان میں مسائل ہیں‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج نا کسی جماعت کی مخالف ہے نا اسکا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے، اگر فوج میں کوئی اپنے ذاتی فائدے کے لیے کسی مخصوص سیاسی ایجنڈے کو پروان چڑھاتا ہے تو خود احتسابی کا نظام حرکت میں آجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عبوری حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے، پاکستان نے افغان حکومت کا ہر معاملے میں بھرپور ساتھ دیا ہے، افغانستان کو بھی چاہیے کہ وہ خوارجین کو پاکستان پر فوقیت نہ دے۔ پاکستان میں کوئی بھی نوگوایریا نہیں ہے، البتہ فتنہ الخوارج کی سہولت کاری بڑھ چکی ہے۔
معلومات کی بنیاد پر ہونیوالے آپریشنز سے دہشتگردی کو روکا جا رہا ہے، عوام کے تحفظ اور ملکی بقا کے لیے خفیہ معلومات کی بنیاد پرآپریشنز کیے جاتے ہیں، کئی علاقوں کو بارباردہشتگردوں سے کلیئرکیا جاتا ہے۔ کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں دہشتگردوں کی عملداری ہو۔
فتنۃ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، عزم استحکام کے لیے تمام فریقوں کا اتفاق رائے ضروری ہے، پاکستان کے فوجداری نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، پوری قوم یک زبان ہوکردہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف کھڑی ہو، دہشتگردوں کو سرحدپار سے سہولت ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشتگردوں کی سرحد پار سے سہولت کاری کے مسئلے سے نمٹا جارہا ہے، پاک فوج کے جوان متوسط اور نچلے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، فوج عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ہرجگہ پرکام کررہی ہے۔ امن کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، ایک محفوظ اور پرامن پاکستان معاشی طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔
