اسلام آباد ، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے پہلے روس کو شکست دی پھر امریکا کو انخلا پر مجبور کیا مگر وہ کافی حد تک بدل بھی چکے ہیں، حکومت ، فوج اور ادارے ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی میں ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کی سرزمین استعمال نہ ہو،افغانستان میں درمیانی راستہ نکلنا میں ہی پوری دنیا کی بھلائی ہے ،پاکستان مہاجرین کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان کی صورت حال پرانے حالات سے بہتر ہے، افغان حکومت اور طالبان میں درمیانی راستہ نکلنا ہی بہتری ہوگی،اس وقت کے افغان طالبان کافی بدل چکے ہیں افغان اپنے ملک کیلئے جو فیصلہ کریں وہ ہمیں قبول ہے، اب جمعیت اسلامی نے بھی بھرتی شروع کردی ہے، جمعیت اسلامی کو چھوٹی طاقت نہیں سمجھنا چاہیے، افغانستان میں نسلی بنیادوں پر بھرتی کی جارہی ہے، پاکستان کی حکومت، فوج اور ادارے ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہیں،ہم نے چمن میں بھی ایف آئی اے کو تعینات کردیا ہے ۔شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی میں ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کی سرزمین استعمال نہ ہوافغانستان میں درمیانی راستہ نکلنا میں ہی پوری دنیا کی بھلائی ہے کیونکہ افغان طالبان خانہ جنگی نہیں چاہتے، انہوں نے پہلے روس کو شکست دی اور اب امریکا کو انخلا پر مجبور کیا۔افغان طالبان اس وقت آدھے افغانستان پر قبضہ کرچکے ہیں، ہم اس معاملے میں کسی کے ساتھ فریق نہیں بنیں گے، افغانستان میں امن ہمارے لیے بھی بہت ضروری ہے جبکہ طالبان بھی حالات کی بہتری چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم نے افغان مہاجرین سے متعلق حکمتِ عملی تیار کرلی ہے، پاکستان مہاجرین کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، دفترخارجہ اس معاملے پر جلد تفصیلی گفتگو کرے گا ۔وفاقی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سب نے پاک فوج کی پالیسی کی تائید کی، چین پر سمجھوتہ کیے بغیر ہم امریکاسے تعلقات اچھے کرناچاہتے ہیں، اگر مستقبل میں کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کا معاملہ ہوا تو اس حوالے سے ہم پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہیں، جغرافیائی طور پر پاکستان ایسے مقام پر ہے جہاں جسے کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا، پاکستان اور ایران کے علاوہ ہر ملک میں امریکی اڈے موجود ہیں۔
