اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی صورتحال پر اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس وزیراعظم ہاوس میں ہوا جس میں آزاد کشمیر حکومت، وزارت داخلہ کے نمائندے اور دیگر اہم حکام شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی وزیرکشمیر امور امیرمقام، وزیر توانائی، وزیر فوڈ سیکیورٹی بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران شہبازشریف کو آزاد کشمیر میں کشیدہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس میں آزاد کشمیر کی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت کے متحدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ راولاکوٹ میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔چئیر مین متحدہ ایکشن کمیٹی شوکت نوز میر کا کہنا ہے کہ ہمارے 3 مطالبات ہیں سستا آٹا، بجلی میں مکمل ریلیف دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا تیسرا مطالبہ اشرافیہ سے مرعات کی واپسی ہے،جب تک یہ تینوں مطالبات حکومت منظور نہیں کرتی ہڑتال جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مطالبات کو منظور کرکے نوٹیفیکیشن جاری کرے، ہمارا احتجاج پرامن ہے اسے سبوتاز ہرگز نہیں ہونے دیا جائیگا۔مزاکرات ناکام ہونے کے بعد راولاکوٹ اور دیگر مقامات سے قافلے مظفرآباد کی جانب رواں دواں ہے۔
