ہومتازہ ترینمودی سرکار نے عالمی دبائوپر مقبوضہ کشمیر پر اے پی سی طلب کر لی

مودی سرکار نے عالمی دبائوپر مقبوضہ کشمیر پر اے پی سی طلب کر لی

نئی دہلی/اسلام آباد ،مودی سرکار نے عالمی دبائو کے باعث مقبوضہ کشمیر پر اے پی سی طلب کر لی ہے جس میں مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت کی بحالی پر گفتگو ہوسکتی ہے دوسری طرف حریت رہنما عبدالحمید لون نے اے پی سی میں کسی بھی حریت رہنماء کو مدعو کئے جانے کی تردید کر دی ۔

ہفتہ کو بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر مودی سرکار نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) طلب کرلی ہے، آل پارٹیز کانفرنس میں مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے، بھارتی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس 24 جون کو منعقد ہوگی۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر مودی سرکار پر تنقید کرنے والی محبوبہ مفتی کو مدعو کیا گیا، محبوبہ مفتی نے دعوت نامہ ملنے کی تصدیق کردی ہے۔اس حوالے سے حریت رہنماء عبد الحمیدلون نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اپنے کٹھ پتلیوں اور خود ساختہ لیڈروں کو ایک مرتبہ پھر ضمیر کا سودا کرنے کیلئے دہلی مدعو کیا گیا ہے، اس کانفرنس کا مقصد مودی سرکار کی نئی سیاسی چال ہوسکتی ہے، بھارت سیاسی چالوں سے کشمیری عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنا سکتا ہے،مودی کی نام نہاد کانفرنس میں مدعو لوگوں کو مایوسی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، بھارت کچھ وقت ان کٹھ پتلیوں کو بیوقوف بنا سکتا ہے تاہم کشمیری عوام کو اب بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے۔عبدالحمید لون نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے،بھارت کا 5 اگست کا اقدام سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی اقدام ہے،بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر میں دس لاکھ فوجیوں کو کشمیری عوام کے قتل عام کا لائسنس دیا ہوا ہے، اگست دو ہزار انیس کے بعد سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا ،نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر کاروبار تباہ، گھر جلا دیئے گئے، مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست 2019 کے مودی کے اقدامات کے بعد کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے ،مقبوضہ جموں کشمیر میں فریڈم آف پریس اور فریڈم آف ایکسپریشن نہیں ہے،جموں کشمیر کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اندر مضمر ہے،بین الاقوامی برادری کو بے حسی اور غفلت کی نیند ختم کرنی ہوگی، اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی مشکلات کو دیکھے اور مسئلہ کشمیر قرار دادوں کے مطابق حل کروائے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔