کوئٹہ، بلوچستان کا 584 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا،بجٹ اجلاس سے قبل بلوچستان کے عوامی نمائندوں نے بھی وفاق کے نقش قدم پر چلتے بلوچستان اسمبلی کا احاطہ میدان جنگ بنا دیا، ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ایوان کو جانے والے راستے بند کر دیئے گئے۔ انتظامیہ نے بکتر بند گاڑی کی مدد سے گیٹ توڑ دیا،مشتعل مظاہرین نے بلوچستان اسمبلی کو تالے لگا دیئے ،شیلنگ،پتھرائو کے نتیجے میں اراکین سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ،وزیراعلیٰ جام کمال پر جوتا پھینکنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ،بکتر بند گاڑی کی ٹکر سے اسمبلی کا دروازہ توڑ دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو بلوچستان کا بجٹ پیش ہونے سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے اسمبلی احاطہ میدان جنگ بنا رہا ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی تو اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے اہلکاروں سے مقابلہ کرنا شروع کردیا۔اسی اثنا وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کی سخت سیکیورٹی میں آمد ہوئی اور وہ پولیس حصار میں اسمبلی احاطے میں داخل ہوئے۔وزیراعلی کو دیکھ کر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان نے جام کمال کی طرف بڑھنے کی کوشش کی اور ان پر گملے، جوتے پھینکے۔ پولیس نے حملہ کرنے والے مظاہرین کی تلاش شروع کردی ہے ، آخری اطلاعات آنے تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بجٹ اجلاس کی وجہ سے پریشان ہیں، احتجاج حزبِ اختلاف کا حق ہے مگر اب بدتمیزی شروع ہوگئی ہے، بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوناہے جو اپوزیشن دیکھنا نہیں چاہتی۔ان کا کہنا تھا کہ صورت حال کنٹرول میں ہے، بلوچستان اسمبلی کابجٹ اجلاس ہرصورت ہوگا، اپوزیشن کے حملے میں ہماری خواتین ارکان بھی زخمی ہوئی ہیں، کچھ دیر میں حالات معمول کے مطابق ہوجائیں گے۔بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنیکارکنان کو ہنگامہ آرائی کے مقصد سے لائیں، اپوزیشن جماعتوں کیکارکنان ارکان اسمبلی پر حملہ آور ہو رہے ہیں، حزبِ اختلاف کی جماعتیں اسمبلی آکر اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ہم بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنیجا رہے ہیں، وزیراعلی بلوچستان جام کمال حملے میں محفوظ رہے اور اب وہ اسمبلی ہال میں پہنچ چکے ہیں، ایوان آمد پر بھی حزب اختلاف کے اراکین نے بدتمیزی کی۔لیاقت شاہوانی نے مظاہرے کو حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان اور کارکنان نے بلوچستان اسمبلی پر دھاوا بولا اور ایوان کا گھیرا کر کے اسے یرغمال بنا لیا ہے، اپوزیشن نے آج ثابت کردیا کہ ان کا جمہوریت سیکوئی تعلق نہیں، اپوزیشن کو کئی بار بجٹ تجاویز دینے سے متعلق پیش کش کی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔قبل ازیں انتظامیہ نے بکتر بند گاڑی کی مدد سے گیٹ توڑ دیا، اپوزیشن اراکین نے بلوچستان اسمبلی کے داخلی دروازے پر تالے لگا دیئے، سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کو بھی مشتعل کارکنوں نے اسمبلی میں جانے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے،اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش تو وہاں موجود سیکیورٹی نے ان کیساتھ مزاحمت کی، انتظامیہ نے کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری کو طلب کیا، اہلکاروں نے مشتعل کارکنوں کو قابو میں کرنے کیلئے ان پر لاٹھی چارج کیا،اس سے قبل بلوچستان بجٹ کے خلاف اپوزیشن کے احتجاجی کیمپ میں اپوزیشن اراکین اور پولیس میں تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی، اپوزیشن اراکین نے پولیس پر ناروا سلوک کا الزام لگاتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی، بی این پی کے رکن احمد نواز اسمبلی میں داخل ہو رہے تھے تو پولیس کی جانب سے انہیں روکا گیا جس پر پولیس اور اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی اور دھکم پیل شروع ہو گئی،اپوزیشن اراکین نے پولیس کے رویے کے خلاف اسمبلی بلڈنگ کے انٹری پوائنٹ پر بیٹھ کر احتجاج کیا۔بعد ازاں اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا جہاں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے بجٹ پیش کیا۔ جس کے اخراجات کا کل حجم584.083بلین روپے جبکہ آمدن کا کل تخمینہ499.363بلین روپے ہے ، بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 346.861بلین روپے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں کا کل حجم189.196بلین روپے ہے جن میں 16.661بلین روپے FPAبھی شامل ہیں ،ڈویلپمنٹ گرانٹس (Federal Funded Projects)کی مد میں48.025بلین روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہیں، 1525جاری ترقیاتی اسکیمات کے لئے بجٹ میں 112.545بلین روپے جبکہ نئی ترقیاتی اسکیمات کے لئے 76.651بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں صوبے کے نوجوانوں کے لئے 5843نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں ، 5.914بلین روپے کی خطیر رقم سے ہیلتھ کارڈ پروگرام کا اجراء کیا جارہا ہے جس کے تحت 18لاکھ 75ہزار خاندانوں کو 10لاکھ روپے مالیت تک مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کے ساتھ گریڈ 1سے گریڈ 19تک ان ملازمین جن کی مجموعی الائونسز ان کی بنیادی تنخواہ سے کم ہے کو 15فیصد ڈسپریٹی ری ڈکشن الائونس دینے کا اعلان کیا گیا ہے ، سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد پنشن دستاویزات کے مکمل ہونے تک آخری بنیادی تنخواہ کا 65فیصد بطور پنشن اجراء کا بھی اعلان کیا گیا ہے ، بلوچستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ میں ایک بلین روپے کے اضافے کا بھی اعلان کیا گیا ہے ، لیویز فورس ، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کی تنظیم نو اور بہتری کے لئے 2.86بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ کوئٹہ شہر میں 248.294ملین روپے کی لاگت سے فرانزک لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے گا ، صوبے کی جامعات کے سالانہ گرانٹ کو 1.50بلین سے 2.50بلین کیا جارہا ہے بلکہ مختلف اضلاع میں ڈگری کالجز میں مسنگ فیسلیٹیز کے لئے 186.761ملین روپے رکھے گئے ہیں ، صوبے بھر میں سو نئے مڈل سکولز کے قیام کے لئے 15سو ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے بلکہ 198نئے سکولوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ، 35گرلز ہائی سکولوں کو اپ گریڈ کرکے ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیا جائے گا ، گلوبل پارٹنرشپ اساتذہ کے لئے 14سو نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں ، نئے مالی سال میں ہماری حکومت نے صوبے میں کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیاہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج ہم نے وہ دیکھا جو شاید بلوچستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، خاتون رکن اسمبلی پر بھی گملے سے حملہ کیاگیا۔
