ہومبریکنگ نیوزتین ڈیموں پر چینی کمپنیوں کے کام بند کرنے سے کتنے مزدور بیروزگار ہوئے؟

تین ڈیموں پر چینی کمپنیوں کے کام بند کرنے سے کتنے مزدور بیروزگار ہوئے؟

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ملک میں چینی انجینئرز پر دہشت گرد حملے کے بعد 3 ڈیموں پر چینی کمپنیوں نے کام بند کردیا ہے جس سے سیکڑوں مزدوروں کے سر پر بےروزگاری کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بشام میں چینی عملے پر ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کے بعد چینی کمپنیوں نے جمعہ کو دیامر بھاشا ڈیم پر سول کام روک دیا تھا جب کہ اس سے قبل داسو اور تربیلا ڈیم پر بھی کام روک دیا گیا تھا۔

ڈیمز پر کام بند ہونے سے مزدوروں میں بھی بےچینی پائی جاتی ہے کیونکہ رمضان المبارک چل رہا جس میں ویسے ہی گھر کا خرچ بڑھ جاتا ہے جبکہ عید الفطر بھی قریب آگئی ہے جس میں بچوں کی خوشیوں کیلئے نئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری سمیت دیگر اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ڈیم پر کام کرنے والے عظمت زاہد، کوہستان کے شہر داسو کے رہائشی ہیں۔ اب انھیں اس عید سے قبل روزگار کی فکر ستا رہی ہے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے عظمت زاہد نے بتایا کہ رمضان میں بے روزگار ہوجانا بہت بُرا لگ رہا ہے۔ عید کی آمد ہے، ایسے میں اگر دیہاڑیاں نہیں لگیں گی تو عید روکھی اور پھیکی ہوجائے گی۔

اس پریشانی میں مبتلا عظمت زاہد صرف واحد مزدور نہیں ہیں بلکہ داسو ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام کرنے والے تقریباً چھ سو مزدوروں کے سر پر بےروزگاری کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت مزدور کوہستان کے رہائشی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق داسو ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کی چینی کمپنی نے انھیں بتایا ہے کہ اب وہ عارضی طور پر کام روک رہی ہے اور جب دوبارہ ضرورت ہو گی تو ان کو بلا لیا جائے گا۔

ان مزدوروں میں مانسہرہ کے رہائشی ادریس خان بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے ادریس کا کہنا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ ہم لوگ عید سے دو دن قبل واپس آئیں گے مگر اب بے روزگار ہو کر پہلے ہی واپس آچکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ ہمارے لیے اچھا نہیں ہوا۔ کئی لوگوں کا روزگار چھن چکا ہے۔ کئی لوگوں نے عید سے پہلے اپنے خاندان والوں کے لیے خریداری کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اب شاید ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔