ہومبریکنگ نیوزسینیٹ اجلاس: سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عالمی بینک کی رپورٹ بارے تحریک پیش

سینیٹ اجلاس: سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عالمی بینک کی رپورٹ بارے تحریک پیش

اسلام آباد(سب نیوز ) سینیٹ اجلاس میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی پر عالمی بینک کی رپورٹ پر سینیٹر مشتاق احمد نے تحریک پیش کر دی۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق سرکاری ملکیتی ادارے سالانہ 458 ارب روپے عوام سے لے رہے ہیں، ورلڈ بینک کی رپورٹ ہے پاکستان کا معاشی ماڈل ناکام اور ناکارہ ہے، یہ اکانومی ماڈل ملک کی اشرافیہ کو فائدہ دیتا ہے اس لئے بدلا نہیں جاتا۔

مشتاق احمد نے کہا کہ یہ ماڈل غریب لوگوں کا مخالف اور صرف مالدار طبقہ کا ماڈل ہے، یہ معاشی ماڈل غریبوں کا نوالہ چھیننے والا اور بالا طبقہ کی جیبیں بھرنے والا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے اپنے افسر ٹیکس چوری میں ملوث ہیں، کئی ریٹائرڈ بیوروکریٹ بیرون ملک رہائش پذیر مگر مراعات یہاں سے لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت 40 فیصد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے، پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات میں ہے، ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ادارے اس وقت بدترین ادارے بن چکے ہیں۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سرکاری ادارے جو چل نہیں سکتے ان کی نجکاری کی جانی چاہئے، پرائیویٹائزیشن بھی شفاف انداز سے کی جانی چاہئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔