اسلام آباد، پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی میں او جی ڈی سی ایل کا کروڑوں روپے مالیت کا ہائی سپیڈ ڈیزل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، اجلاس کے دوران چوری شدہ ڈیزل کی مالیت کے بارے میں او جی ڈی سی ایل اور نیب کے اعدادو شمار میں فرق سامنے آگیا ، جس کے بعد کمیٹی نے معاملہ دوبارہ محکمانہ اکائونٹس کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی، کنوینر کمیٹی نوید قمر نے ریمارکس دیئے کہ2006سے2011تک چوری ہوتی رہی، چھ سال تک یہ ہوتا رہا اور کسی نے دیکھا تک نہیں؟ ۔
بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر نوید قمر کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں ارکان کمیٹی سید حسین طارق ، خواجہ شیراز محمود اور سینیٹر احمد خان نے بھی شرکت کی، اجلاس میں وزارت توانائی(پیٹرولیم ڈویژن)کے سال 2012-13اور 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا،آڈٹ حکام نے کمیٹی کو انشورنس کلیمز کی کٹوتی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اسٹیٹ آئل ( پی ایس او) کو 824ملین کا نقصان ہونے کے معاملے بریفنگ دی، کمیٹی نے معاملے سے متعلق جامع رپورٹ طلب کر لی، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو 2006سے 2011کے دوران آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لیمٹڈ( او جی ڈی سی ایل) کا ہائی سپیڈ ڈیزل چوری ہونے کے معاملے پر بریفنگ دی ،او جی ڈی سی ایل حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جو بائوزر ( ٹینکر)آرڈر کیئے گئے وہ نہیں پہنچے، وہ باہر ہی کہیں بیچ دیا گیا ، انکوائری کی گئی ، دو لوگ ذمہ دار قرار دیئے گئے ، ایک مٹیریل اسسٹنٹ تھا،کیس نیب کو دیا گیا ، نیب نے ریفرنس فائنل کیا ، کنوینر کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ اگر 32کروڑ اسسٹنٹ نے چوری کر لیا ہے تو یہ اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے انہوں نے ضرور کچھ نہ کچھ کیا ہو گا لیکن وہ یہ اپنے بل بوتے پر نہیں کرسکتے ،نیب حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس نو ملزمان کی فہرست ہے،دو اوجی ڈی سی ایل کے ملازمین ہیں باقی کیرج کنٹریکٹر تھے، ہم نے 182ملین کا ریفرنس فائل کیا ہے، کنوینر کمیٹی نے کہا کہ 2006سے2011تک چوری ہوتی رہی، نیب نے تحقیقات کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ نامزد ملزمان کے علاہ ان کے اوپر جتنے لوگ ہیں کیاانہوں نے اپنا کام ٹھیک طریقے سے کیا؟چھ سال تک یہ ہوتا رہا اور کسی نے دیکھا تک نہیں؟ اجلاس کے دوران چوری شدہ ڈیزل کی مالیت کے بارے میں او جی ڈی سی ایل اور نیب کے اعدادو شمار میں فرق سامنے آگیا ، کمیٹی نے اعدادو شمار میں فرق سامنے آنے کے بعد معاملہ دوبارہ محکمانہ اکائونٹس کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی،آڈٹ حکام نے سوئی سدرن گیس کمپنی لیمٹڈ ( ایس ایس جی سی) کی جانب سے ٹرانسمیشن لائن کی سیکیورٹی کے لئے کنٹریکٹ غیر مجاز طور پر دیئے جانے کے معاملے سے آگاہ کیا ، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کنٹریکٹ ٹینڈرنگ کے عمل کے بغیر دیا گیا ،کمیٹی نے ایس ایس جی سی حکام کو معاملے کی دوبارہ تحقیقات کی ہدایت کر تے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔
