Monday, June 8, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزسائفرکیس: عمران خان کی درخواست سماعت اگلے ہفتے مقرر کئے جانے کا امکان

سائفرکیس: عمران خان کی درخواست سماعت اگلے ہفتے مقرر کئے جانے کا امکان

اسلام آباد(سب نیوز)سپریم کورٹ میں سائفرکیس میں ضمانت اور دیگرحوالے سے دائر عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقررکیے جانے کاامکان ہے۔

اگلے ہفتے کیس سماعت کے لیے مقررکیاجائیگاکیونکہ نئی پالیسی کے تحت اہم ترین مقدمات کوپندرہ روزمیں مقررکیے جانے بارے فیصلہ کیاگیاتھااور ضمانت کے مقدمات کوبھی ترجیحی بنیادوں پرلگانے کاعمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان نے حامدخان کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیاہے اور باقاعدہ درخواست بھی دائرکردی تھی۔عمران خان نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدالت کی تسلی کے لیے معقو ل ضمانت دینے کو تیار ہیں اور وہ استغاثہ کے گواہان کے ساتھ جعل سازی نہیں کریں گے۔قبل ازیں 16 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

عمران خان کی جانب سے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کے توسط سے دائر تازہ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کا یہ واضح اور طے شدہ اصول ہے کہ ضمانت کو سزا کے طور پر نہیں روکا جانا چاہیے۔درخواست میں کہا گیا کہ ضمانت کی منظوری بنیادی طور پر عدالتوں کی صوابدید پر منحصر ہے، ایک ایسی صوابدید جسے انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ عدالتی طاقت کا ایک بنیادی پہلو ہے۔

انہوں نے درخواست میں مزید کہا کہ ہر درخواستِ ضمانت پر متعلقہ حقائق اور حالات کی روشنی میں احتیاط سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ شہریوں کی آزادی سے متعلق ہوتی ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 7 اور 9 کی دفعات کے ذریعہ ہر شہری کی آزادی کو فوقیت دی گئی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی شہری کو اس کی زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کسی ملزم کو مجاز عدالت کے قانونی اختیار کے بغیر حراست میں لیا جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بدقسمتی سے ایک مایوس کن رجحان پیدا ہوگیا ہے جس کے تحت ریاستی مشینری نے طاقت اور اختیار کی قابلِ اعتراض نمائش کرتے ہوئے جھوٹے مقدمات دائر کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں، سائفر کیس کا اندراج اسی کی ایک مثال ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 16 اکتوبر کے فیصلے کے خلاف اپیل منظور کی جائے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی جائے۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ سائفر کیس کا آغاز سیکریٹری داخلہ کے حکم پر کیا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ذریعے عمل میں لایا گیا، یہ درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ درخواست گزار کو نشانہ بنانے کی منظم کوشش فوجداری نظام انصاف کے غلط استعمال کی نمایاں علامت ہے، یہ سب کچھ سیاسی مخالفین کی ہدایت پر ہورہا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس قابل اعتراض طرز عمل کی روشنی میں درخواست گزار ضمانت حاصل کرنے کا حقدار ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔