کراچی (آئی پی ایس )نامور شاعر اور مزاح نگار ضمیر جعفری کو بچھڑ ے 22برس بیت گئے، ضمیر جعفری خود کو امن کا آدمی کہتے تھے،ان کی شاعری طنز و مزاح سے بھرپور تھی۔سید ضمیرحسین جعفری یکم جنوری انیس سو چودہ کو ضلع جہلم کے قصبے چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے، اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ سید ضمیرجعفری فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، وہ خود کو امن کا آدمی کہتے تھے۔سید ضمیرجعفری نے راولپنڈی سے باد شمال کے نام سے ایک اخباربھی نکالا اورکچھ عرصہ اسلام آباد کے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے اور پاکستان نیشنل سینٹر سے بھی وابستہ رہے۔ ضمیرجعفری اصل میں طنز و مزاح کے شاعر تھے لیکن کبھی کبھی منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کیلئے سنجیدہ شاعری بھی کرلیتے تھے۔ضمیرجعفری نے نظم و نثر کی بہت ساری کتابیں لکھیں جنہیں بڑی پذیرائی ملی، ان کی مشہورکتابوں میں کارزار، لہوترنگ، جزیروں کے گیت، من کے تار اور دیگر شامل ہیں۔ سیدضمیرجعفری بارہ مئی انیس سو ننانوے کو نیویارک میں انتقال کرگئے، انہیں ان کے آبائی گاوں چک عبدالخالق میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
نامور شاعر اور مزاح نگار ضمیر جعفری کو بچھڑ ے 22برس بیت گئے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
