اسلام آباد، وائس چانسلرز اور مختلف سٹیک ہولڈرز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے وبائی مرض اور افراط زر کی اعلی شرح کی وجہ سے اعلی تعلیم کا شعبہ آئندہ بجٹ میں فنڈز اور خصوصی امدادی پیکیج کے اعلان کے بغیر خاطر خواہ اضافے کو برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ 2021-22: اعلی تعلیم کے شعبے کی ضروریات اور توقعات کے عنوان پر منعقدہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا
اس مشاورتی ویبنار کا انعقاد ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان، سپیریئر یونیورسٹی، انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار پروموشن آف سوشل سائنسز پاکستان,یونیورسٹی آف لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، اور ایف پی سی سی,سینٹرل سی ایس آر کمیٹی برائے اعلی تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر کیا۔وائس چانسلرز اور دیگر سٹیک ہولڈزر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے تعلیم کے لئے مختص رقم میں سالانہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد تک اضافے کی سفارش کی جب تک کہ یہ جی ڈی پی کا 5.0 فیصد تک نہ پہنچ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلی تعلیم پر سرکاری اخراجات فی طالب علم سالانہ 250 ڈالر سے کم ہیں۔ ویبنار کے دوران، انکشاف کیا کیا گیا کہ پچھلے پانچ سالوں میں، ایچ ای سی کا سالانہ بجٹ ایک جیسا ہی رہا اور اس میں کوء خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا یعنی 18-2017 میں 63.183 ارب، 19-2018 میں 65.020 ارب، 20-2019 میں 64.100 ارب، اسی طرح 21-2020 میں 64.100 ارب روپے۔ جبکہ 22-2021 میں 65 ارب روپے مختصص کیے گئے یہ مختص کردہ بجٹ 92 سب کیمپس والے 138 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ویبنار میں پاکستانی یونیورسٹیوں کو درپیش کئی سالوں سے چلنے والے خسارے اور مالی پریشانیوں پر قابو پانے کے لئے نئے آنے والے بجٹ میں 150 ارب روپے مختص کرنے کا مشورہ دیا گیااس سیشن کا میں میزبانی کے فرائض ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایپ سیپ محمد مرتضی نور نے ادا کیے۔دیگر پینلسٹ میں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، یونیورسٹی آف تربت، نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ، اقرا یونیورسٹی کراچی، اور یونیورسٹی آف پنجاب کے وائس چانسلرز سمیت مرکزی جنرل سکریٹری فپواسا شامل تھیان تمام ماہرین تعلیم نے نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی، کورونا وائرس ویکسینز کی لوکل پروڈکشن کے لئے فنڈز کی تقسیم اور لیبز کی اپ گریڈیشن کے لئے سفارش کی،کورونا کی وبا کے دوران اعلی تعلیم کے لئے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان، اعلی تعلیم کے شعبے کے لئے الگ ٹی وی اسٹیشن کا آغازبجٹ بنانے کے عمل میں یونیورسٹیوں کی شمولیت پالیسی سازی کے عمل میں پاکستان بھر میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت، اعلی تعلیم کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حوصلہ افزائی، افراط زر کی شرح کے پیش نظر اساتذہ کی تنخواہوں میں نظرثانی اور اضافہ، ٹیکسوں کی مد میں تدریسی اور ریسرچ کمیونٹی کے لئے 75 فیصد چھوٹ کی بحالی پینشن کی ادائیگی کے لئے خصوصی فنڈ کا قیام، طلبا کو انٹرنیٹ ڈیوائس کی فراہمی مناسب تعلیم یافتہ فیکلٹی اور فنڈ کے بغیر نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے پالیسی پر نظرثانی،فیکلٹی کے ترقی کے پروگرامز کے لئے مناسب فنڈنگ اور سماجی علوم کا فروغ اور اعلی تعلیم کے شعبے کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں کرنے اور ایک جدید انداز اپنانے کا مطالبہ کیاسیشن کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار وائس چانسلر نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد نے سرکاری اور نجی شعبے کے تعلیمی شعبے کو بہتر بنانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کے لئے محمد مرتضی نور اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
