اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ کے درمیان آٹھ اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔8 اگست کو اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز پیپلزپارٹی نے دی تھی اور قانونی ماہرین کا بھی یہی کہنا تھا کہ اسمبلی 8 اگست کو تحلیل کردی جائے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 8 اگست کواسمبلیاں تحلیل کرنے پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔۔
قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کو رات 12 بجے ختم ہورہی ہے۔وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ 8 اگست کو اسمبلیاں تحلیل کرنے پر ابھی کوئی اتفاق نہیں ہوا، اسمبلیاں تحلیل کرنے سے متعلق تمام جماعتوں سے مشاورت ہوگی۔وزیراعظم 8 اگست کو سمری صدر مملکت عارف علوی کو بھجوائیں گے جس پرصدر کے دستخط کے بعد قومی اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔آئینی لحاظ سے اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد 60 روز کی مدت کے اندر انتخابات کا انعقاد کروانا ہوتا ہے۔
حکومتی اتحاد (پی ڈی ایم ) میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی سب سے اہم جماعتیں ہیں اور ان دونوں کے درمیان اسمبلی کی تحلیل پر اتفاق پاجانے کا مطلب ہے کہ انتخابات کا انعقاد 90 روز میں ہی کروایا جائے گا۔ قبل از وقت اسمبلی تحلیل کیے جانے سے یہ بات بھی واضح ہے کہ انتخابات کا انعقاد 90 روز میں ہوگا کیونکہ مدت پوری ہونے پر اسمبلی تحلیل کیے جانے پر آئینی لحاظ سے انتخابات 60 روز کے اندر کروانے ہوں گے۔دوسری جانب بلاول بھٹو کے پرنسل سیکرٹری نے بھی ایسی اطلاعات کی تردید کی ہے جس کے مطابق 8اگست کو اسمبلیوں کی تحلیل پر اتفاق کیا گیا ہے۔
