اسلام آباد(سب نیوز)قومی اسمبلی نے فنانس بل 2023 کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،وفاقی بجٹ کل حجم 14480ارب روپے ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں فنانس بل کو زیرِ غور لانے کی تحریک منظور کر لی گئی۔قومی اسمبلی میں فنانس بل کی شق وار منظوری لی گئی ۔
ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 سے بڑھا کر 9ہزار 415 ارب مقرر کیا گیا ہے ، پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کر دی گئی ،این ایف سی کے تحت 5ہزار 276 ارب کی بجائے 5ہزار390 ارب ملیں گے۔ فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت215 ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے۔
وزیرِ خزانہ نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی آرڈیننس میں ترمیم پیش کر دی، قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے ترمیم منظور کر لی۔پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت کو 60 روپے فی لیٹر تک لیوی عائد کرنے کا اختیار ہو گا۔
پرانی ٹیکنالوجی کے حامل پنکھوں پر یکم جنوری سے 2 ہزار روپے ٹیکس ہوگا۔۔پرانے بلبوں پر یکم جنوری سے 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں بعض لوگ بیک وقت آرمی چیف، چیف ایگزیکٹو اور صدر کی پنشن لیتے رہے، یہ غریب ملک پر بہت بڑا بوجھ تھا۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرکاری افسران کے ایک سے زائد پنشن لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پابندی گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری افسران کے لیے ہے، گریڈ 17 سے نیچے کے سرکاری اہلکاروں پر اس پابندی کا نفاذ نہیں ہو گا۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ایک سے زائد پنشن کا مسئلہ پرانا ہے جسے پہلے ہی حل ہو جانا چاہیے تھا۔
مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کی تحریک پیش کر دی۔وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے مولانا عبدالاکبرچترالی کی تحریک کی مخالفت کر دی۔
وزیرِ خزانہ کی مخالفت کے بعد فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کی تحریک کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی نے مطالباتِ زر کی منظوری اور کٹوتی کی تحاریک مسترد کی تھیں۔
