ہومبریکنگ نیوزشہری کو حبس بے جا میں رکھنے کا کیس،ڈپٹی کمشنرعرفان میمن کیخلاف مقدمہ درج کرنے کاحکم

شہری کو حبس بے جا میں رکھنے کا کیس،ڈپٹی کمشنرعرفان میمن کیخلاف مقدمہ درج کرنے کاحکم

اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آبادہائیکورٹ میں اسلام آباد کے شہری کو دفتر میں حبس بے جا میں رکھنے اور دیگر غیر قانونی اقدامات کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت ،عدالت نے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے شہری شیرزادہ کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار شہری کی جانب سے وکیل عثمان وڑائچ اور بابر حیات سمور ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ڈپٹی کمشنر کے آفس میں بلا کر چار گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ موبائل فون چھین لیا گیا، میری چیک بک گھر سے منگوائی گئی، حبس بے جا میں زبردستی غیرقانونی طور پر 5 کروڑ کا چیک کیش کرایا گیا، جعلی ڈیڈ بنوا کر دستخط کرائے گئے زبردستی 2 پولیس اہلکار گواہ بھی بنائے گئے۔

ماتحت عدالت نے اندرج مقدمہ کی درخواست پر آرڈر میں لکھا ہے کہ پولیس کا کنڈکٹ درست نہیں، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی سی کیسے کسی کو اپنے دفتر میں حبس بے جا میں رکھ سکتا ہے؟

عدالت نے حیرانی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دو پرائیویٹ شہریوں کے تنازعہ پر ڈپٹی کمشنر کیسے عدالت لگا سکتا ہے؟

سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے پولیس سے استفسار کیا کہ ڈی سی کے خلاف درخواست کی تحقیقات کون کرے گا؟

عدالت نے شہری کی اغواء برائے تاوان اور حبسِ بے جا میں رکھنے کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے شہری کی درخواست کے مطابق تھانہ گولڑہ کے سب انسپکٹر امتیاز اور کانسٹیبل نادر کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا بھی حکم دیدیا۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن کو تنبیہ کی کہ ڈی سی کو کہیں اپنے کام سے کام رکھے، عدالت نہ بنے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔