وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف مقدمےکو سیاسی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یاسین ملک کو دوران حراست شہید کيے جانے کا خدشہ ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک خط ارسال کیا ہے جس میں یاسین ملک کو سزا سنانے کے معاملے کو اجاگر کیا گیا ہے۔
خط میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
ترجمان عاصم افتخار نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 10 کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنما یاسین ملک کو ایک انتہائی مشکوک اور متنازعہ مقدمے میں سزا سنانے کے بعد بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل میں اضافہ کردیا۔
خط میں پاکستان نے عالمی برادری سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔
افغانستان سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کے افغانستان میں کردار سے سب واقف ہیں، ہم افغانستان میں منفی کردارنہیں دیکھناچاہتے۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ خطےمیں امن کیلئے آئین کےمطابق اقدامات کرتے رہیں گے، اقدامات کی ايک کڑی پاکستانی جرگےاور کالعدم ٹی ٹی پی کے مذاکرات ہیں۔
