بیجنگ ( ما نیٹر نگ ڈیسک)
متعدد ذرائع ابلاغ نے امریکہ کی طرف سے منعقدہ نام نہاد “جمہوریت سمٹ” پر سوالات اٹھائیے ہیں۔ ان مضامین میں کہا گیا ہے کہ امریکی جمہوریت کی ناکامی اور اس کی برائیوں کے مسلسل منظر عام پر آنے کے تناظر میں امریکہ نے خود کو ایک بڑے جمہوری ملک کے طور پر پیش کیا ہے لیکن حقیقت میں یہ جمہوری اقدار سے بہت دور ہے۔
امریکی “نیشنل انٹرسٹ” میگزین نے ایک طویل مضمون شائع کیا جس میں سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ “جمہوریت سمٹ” کی میزبانی کا اہل ہے؟ مضمون کا عنوان ہے “جب آپ کی اپنی جمہوریت ختم ہو رہی ہے، تو آپ “جمہوریت سمٹ” کیسے منعقد کرسکتے ہیں؟ “سب ٹائٹل نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ جمہوریت کو ایسے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے جس کو ہتھیار بناکر ایک مضبوط ملک دوسرے کمزور ملک کو سبق دیتا ہے ۔
امریکی “فارن پالیسی” میگزین کی شہ سرخی تھی “بائیڈن کی “جمہوریت سمٹ” میں کیا غائب ہے؟ اس میں لکھا گیا ہے کہ ان کی” جمہوریت سمٹ” میں عوام کی طاقت کی کمی ہے۔
رائٹرز نے ایک طویل مضمون میں “بائیڈن کی ” جمہوریت سمٹ کو شریک ممالک کی فہرست کے حوالے سے ہدف تنقید بنایا۔ مضمون میں اس سمٹ میں مدعو کیے گئے ممالک اور خطوں کی فہرست کی بنیاد کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے ۔
