ہومکالم وبلاگزکالمزعلامہ اقبال کی روحانی میراث اور ملتِ اسلامیہ کا اتحاد

علامہ اقبال کی روحانی میراث اور ملتِ اسلامیہ کا اتحاد

تحریر: محمد محسن اقبال
تاریخِ انسانی درحقیقت ہدایتِ الٰہی کی تلاش اور اس کے نور سے منور ہونے کا ایک مسلسل سفر ہے۔ جب اللہ رب العزت نے اس کائنات کو وجود بخشا اور حضرت آدم علیہ السلام کو منصبِ نبوت سے سرفراز فرمایا تو انسانیت کی رہنمائی کا ایک مقدس سلسلہ شروع ہوا، جو یکے بعد دیگرے انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے جاری رہا، یہاں تک کہ اس کی تکمیل خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثتِ مبارکہ پر ہوئی۔ آپ ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے ساتھ سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے اختتام پذیر ہوگیا، لیکن ہدایتِ الٰہی کا نور کبھی ماند نہ پڑا۔ قرآنِ حکیم، سنتِ نبوی ﷺ اور ان برگزیدہ بندگانِ خدا کی زندگیوں کے ذریعے یہ روشنی دلوں کو منور کرتی رہی جنہوں نے اپنی حیات کو تزکیۂ نفس، اصلاحِ کردار، معرفتِ الٰہی اور بیداریِ انسانیت کے لیے وقف کردیا۔ انہی عظیم شخصیات میں علامہ محمد اقبال کا مقام نہایت ممتاز اور منفرد ہے۔
علامہ اقبال محض ایک ایسے شاعر نہیں تھے جن کے اشعار تخیل کی دنیا آباد کرتے ہوں، بلکہ وہ ایک صاحبِ بصیرت مفکر، مردِ درویش اور بیدار مغز رہنما تھے، جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کے اندر کھویا ہوا شعور، فکری اعتماد اور اجتماعی وقار دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کی شاعری دراصل ایک ایسی قوم کے لیے صدائے بیداری تھی جو رفتہ رفتہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کھوتی جارہی تھی اور سیاسی محکومی، فکری جمود اور روحانی غفلت کو اپنی تقدیر سمجھ بیٹھی تھی۔ اقبال کا پیغام کسی ایک خطے یا سرحد تک محدود نہ تھا۔ وہ دریائے نیل کے ساحلوں سے لے کر کاشغر کی وادیوں تک بسنے والے مسلمانوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ ان کی اصل قوت محض زمینوں، سلطنتوں اور سیاسی بندوبست میں نہیں، بلکہ ان کے مشترکہ ایمان، تہذیبی شناخت، تاریخی ورثے اور روحانی رشتے میں پوشیدہ ہے۔
تصورِ پاکستان بھی اقبال کے اسی سیاسی، فکری اور فلسفیانہ شعور کی کوکھ سے پروان چڑھا۔ 1930ء میں الٰہ آباد کے مقام پر ان کا خطبہ مسلمانوں کی سیاسی منزل کے تعین میں ایک اہم فکری سنگِ میل ثابت ہوا۔ انہوں نے ایک ایسے سیاسی اور سماجی نظام کا تصور پیش کیا جس میں برصغیر کے مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی شناخت کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کرسکیں۔ اگرچہ اقبال اپنی زندگی میں پاکستان کو معرضِ وجود میں آتا نہ دیکھ سکے، لیکن ان کی فکر اور بصیرت نے ان آرزوؤں کو جِلا بخشی جو بالآخر 1947ء میں ایک آزاد وطن کے قیام پر منتج ہوئیں۔ اس اعتبار سے پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک ایسے خواب کی تعبیر بھی ہے جس کے پس منظر میں مسلمانوں کی آزادی، خودداری، شناخت اور اجتماعی وقار کی آرزو کارفرما تھی۔
اقبال نے اپنے لازوال شعری مجموعوں کے ذریعے انسان اور اس کے خالق کے درمیان تعلق کو ازسرِنو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی شہرۂ آفاق نظمیں ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ اس سلسلے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ’’شکوہ‘‘ میں انہوں نے ایک ایسی ملت کے اضطراب، محرومی اور زوال کا درد نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا جو اپنی گزشتہ عظمت کے کھو جانے پر سوال اٹھا رہی تھی، جبکہ ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں مسلمانوں کو ان کے زوال کے اسباب سے آگاہ کرتے ہوئے ایمان، اتحاد، قربانی، نظم و ضبط اور عملِ پیہم کی اہمیت یاد دلائی۔ یہ محض دو نظمیں یا ایک شاعر کا تخلیقی مکالمہ نہیں تھا، بلکہ ایک سوئی ہوئی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی ایک عظیم فکری و روحانی کوشش تھی۔
اقبال کا ایک بڑا اور پائیدار کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو جغرافیائی، لسانی، نسلی اور سیاسی اختلافات سے بلند ہوکر ایک ملت بننے کا درس دیا۔ ان کا یہ پیغام آج بھی دلوں میں ارتعاش پیدا کرتا ہے::
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
یہ شعر محض جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں، بلکہ ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ابدی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال جس اتحاد کے آرزو مند تھے، اس سے مراد کوئی مصنوعی سیاسی بندوبست یا تمام مسلم معاشروں کو ایک ہی طرزِ زندگی کا پابند بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ مشترکہ مقصد، باہمی احترام، اجتماعی ذمہ داری اور اسلام کے روحانی ورثے پر استوار اخوت و یکجہتی کا تصور پیش کرتے تھے۔
افسوس کہ آج عالمِ اسلام کی صورتِ حال دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اگر اقبال ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ان کا دل کس قدر مضطرب ہوتا۔ بے پناہ انسانی وسائل، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، قدرتی خزانوں اور معاشی امکانات کے باوجود مسلم ممالک سیاسی رقابتوں، علاقائی تنازعات اور متضاد تزویراتی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور مسلم دنیا کے مختلف خطوں میں بے گناہ انسانوں کی مسلسل اذیت و بے بسی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ امتِ مسلمہ ابھی تک اس اجتماعی قوت سے محروم ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ المیہ صرف یہ نہیں کہ مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں، بلکہ اصل افسوس یہ ہے کہ یہی اختلافات انہیں ان مشترکہ خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے سے بھی روک دیتے ہیں جو ان کے اجتماعی مفادات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کررہے ہیں۔
ایسے حالات میں پاکستان پر ایک خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک ایسی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ملک جس کی بنیاد مسلمانوں کی فکری، سیاسی اور تہذیبی شناخت پر استوار تھی، اسے عالمِ اسلام میں مفاہمت، تعاون اور یکجہتی کی آواز بنے رہنا چاہیے۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور مسلم ممالک کے درمیان مذاکرات کے فروغ کو اقبال کے فلسفۂ اتحاد کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے، مسلم ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی تنازعات کے پُرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستانی قیادت کی کوششیں اسی فکر کے ایک اہم عملی پہلو کی عکاس ہیں۔ تاہم ایسی کاوشوں کی کامیابی کے لیے مستقل مزاجی، سیاسی بصیرت اور اجتماعی حمایت ناگزیر ہے، کیونکہ پائیدار امن محض اعلانات سے قائم نہیں ہوتا؛ اس کے لیے اخلاص، اعتماد سازی اور محدود سیاسی مفادات سے بلند ہوکر امت کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔
اقبال کا پیغام عالمِ اسلام کے اہلِ دانش، علما، سیاسی رہنماؤں اور نوجوان نسل پر بھی ایک بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اتحاد صرف جذباتی نعروں، تقاریب اور رسمی اجتماعات سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے علم و تحقیق کا فروغ، سائنسی ترقی، معاشی تعاون، مضبوط ادارے، سماجی انصاف اور برداشت و رواداری کی فضا پیدا کرنا ضروری ہے۔ جو قوم علم سے اپنا رشتہ کمزور کردے، اخلاقی نظم و ضبط کو فراموش کردے اور اندرونی اختلافات کو اپنی قوت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے دے، وہ محض اپنے شاندار ماضی کے تذکرے سے دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکتی۔
علامہ محمد اقبال کی روحانی اور فکری میراث آج بھی اسی طرح زندہ اور بامعنی ہے جس طرح ان کے عہد میں تھی۔ ان کی شاعری آج بھی ضمیروں کو بیدار کرتی ہے، ان کا فلسفہ آج بھی فکری بے عملی کو چیلنج کرتا ہے اور ان کا تصور آج بھی ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو یقین رکھتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ اپنے انتشار پر قابو پاکر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔ اقبال کا پیغام یہ ہے کہ قوموں کی تقدیر محض خواہشات سے نہیں بدلتی؛ جب ایمان یقین میں ڈھلتا ہے، یقین عمل کی صورت اختیار کرتا ہے اور عمل کو حکمت و اجتماعی مقصدیت کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے، تب قومیں عروج کی منزلیں طے کرتی ہیں۔
اقبال کی عظمت صرف ان کے کلام یا تصورِ پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ ان کی اصل بزرگی اس روحانی اعتماد اور خودی کے شعور میں بھی پوشیدہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دلوں میں دوبارہ بیدار کرنا چاہتے تھے۔ ان کی میراث آج بھی ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ اسلام کی حقیقی روح کو پہچانیں، اخوت و محبت کے رشتوں کو مضبوط کریں اور جرأت، ہمدردی، حکمت اور خدمتِ انسانیت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔ جب تک عالمِ اسلام روحانی بیداری اور اجتماعی سربلندی کی جستجو میں رہے گا، اقبال کے افکار کا چراغ روشن رہے گا اور آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ امتِ مسلمہ کی حقیقی منزل اتحاد، علم، ایمان اور بامقصد عمل میں مضمر ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔