ہومتازہ ترینایران سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ جلد کروں گا، ٹرمپ

ایران سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ جلد کروں گا، ٹرمپ

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ جلد کر لیں گے۔
ان کا یہ بیان قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں، معاشی دباؤ برقرار رکھنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی معاہدے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ ملاقات صدر کو دی جانے والی ہفتہ وار انٹیلی جنس بریفنگ کے دوران ہوئی۔ 2 امریکی حکام نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ 3 نومبر امریکا میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا اور ٹرمپ اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انتخابی نتائج پر مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور ملک کی قیادت کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں پر ووٹرز کی ناراضی کا اثر نمایاں رہا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنے کے لیے مزید فوجی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا، ‘اب ہم فیصلہ کریں گے کہ کیا ہم مزید حملے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔’
ٹرمپ نے مزید کہا، ’اگر ممکن ہوا تو میں باقی ملک (یعنی ایران) کو تباہ نہیں کرنا چاہوں گا لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے۔ آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔‘
امریکی انتظامیہ اس وقت تین ممکنہ آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان میں ایران پر حملوں کی ایک اور لہر شروع کرنا، تہران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنا یا ایسے معاہدے تک پہنچنا شامل ہے جس کے تحت ایران کو اہم رعایتیں دی جائیں۔ ٹرمپ کے لیے وسط مدتی انتخابات کو اس لیے اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا کہ آیا وہ جنگ میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں۔
سفارتی کوششوں میں تیزی
ایگزیوس کے مطابق جمعرات کو جس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مشیروں کے ہمراہ آئندہ حکمت عملی پر غور کر رہے تھے اس دوران ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی تیزی آئی۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، عمان اور مصر کے ثالثوں سے ٹیلی فوننک رابطے کیے۔
رپورٹ میں علاقائی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ قطری ثالثوں نے ایرانی حکام اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ ایک مجوزہ معاہدے کے مسودے پر بات چیت جاری رکھی۔ اس معاہدے کا مقصد 2 روز کے اندر فریقین کے مابین باہمی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرنا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق پہلے روز امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور تہران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرے گا۔ اس کے بدلے ایران باضابطہ طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو ان جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دے گا جن پر بمباری کی گئی تھی۔ یہ اقدام ایک سال قبل قاہرہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہوگا۔
منصوبے کے دوسرے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال ہوں گے۔ ان مذاکرات میں ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق یہ تجویز ابھی سفارتی بات چیت کا حصہ ہے اور کسی فریق کی جانب سے مجوزہ شرائط قبول کیے جانے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔