تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی
ریزیڈنٹ ایڈیٹر، سب نیوز یو ایس اے
** آسٹن** — امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 میں ایک ایسا نتیجہ سامنے آیا ہے جس نے ٹیکساس کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا ہے۔ ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالارکو نے ٹیکساس کی امریکی سینیٹ کی نشست جیت کر ریپبلکن امیدوار اور سابق اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو شکست دے دی ہے۔ یہ 1988 کے بعد ٹیکساس سے ڈیموکریٹک پارٹی کی پہلی سینیٹ فتح ہے، جسے قومی سطح پر بھی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ٹالارکو نے تقریباً 59 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ پیکسٹن کو قریب 39 فیصد ووٹ ملے۔ لبرٹیرین امیدوار ٹیڈ براؤن کا حصہ معمولی رہا۔ یہ فتح اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیکساس طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے انتخابات میں بھی یہاں بڑی برتری حاصل کی تھی۔
37 سالہ جیمز ٹالارکو ٹیکساس کے راؤنڈ راک سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سابق معلم، پریسبیٹیرین سیمی نیرین اور ٹیکساس ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے رکن ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے گورنمنٹ اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ایجوکیشن پالیسی کی تعلیم حاصل کی۔ سیاست سے قبل وہ سین اینٹونیو کے ایک مڈل اسکول میں انگلش ٹیچر رہے اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ نان پرافٹ تنظیم میں کام کیا۔
ان کی انتخابی مہم کا مرکزی پیغام معاشی عدم مساوات کے خاتمے، کرپشن کے خلاف جدوجہد، صحت کی دیکھ بھال کی بہتری اور عام شہریوں کے مسائل تھے۔ انہوں نے خود کو “پروگریسو کرسچین” کے طور پر پیش کیا اور “اپنے پڑوسی سے محبت” کے اصول پر سیاست کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان کی مہم نے خاص طور پر لاطینی ووٹرز اور نوجوانوں کو متاثر کیا، جس کا ثبوت ریکارڈ ابتدائی ووٹنگ میں بھی نظر آیا۔
یہ مقابلہ ٹیکساس کی تاریخ کا سب سے مہنگا سینیٹ مقابلہ بن گیا۔ کین پیکسٹن، جو ٹرمپ کے قریبی حامی اور متنازعہ شخصیت رہے، کو پرائمری میں موجودہ سینیٹر جان کورنین کو ہرا کر ٹرمپ کی حمایت سے آگے بڑھایا گیا تھا۔ کئی ریپبلکن رہنماؤں نے پیکسٹن کی قانونی اور ذاتی مسائل کی وجہ سے اسے خطرناک انتخاب قرار دیا تھا۔
ٹالارکو کی فتح کو ٹرمپ کی پالیسیوں، مہنگائی اور دیگر قومی مسائل پر ووٹرز کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قومی سطح پر بھی ڈیموکریٹس نے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کا کنٹرول حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور سینیٹ میں نارتھ کیرولینا اور ساؤتھ کیرولینا جیسی سیٹیں فلپ کی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکساس میں یہ تبدیلی محض ایک سیٹ کی فتح نہیں بلکہ ریاست کے بدلتے ہوئے آبادیاتی اور سیاسی منظرنامے کی عکاسی ہے۔ ٹالارکو نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسے عام لوگوں کی فتح قرار دیا اور کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ نتیجہ آنے والے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ٹیکساس کی آبادی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور شہری علاقوں میں ڈیموکریٹک حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
