(ٹیکساس ( شاہ خالد خان ہمدانی، ریزیڈنٹ ایڈیٹر یو ایس اے
امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار جینا ہینوجوسا نے ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں موجودہ ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اگر یہ برتری برقرار رہی تو ہینوجوسا ٹیکساس کی پہلی لاٹینا گورنر بن جائیں گی اور 1990 کی دہائی کے بعد پہلی ڈیموکریٹ گورنر منتخب ہوں گی۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق چھ ملین سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد ہینوجوسا تقریباً 52 سے 54 فیصد ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ گریگ ایبٹ 44 سے 46 فیصد پر ہیں۔ خاص طور پر ابتدائی ووٹنگ میں ڈلاس، فورٹ بینڈ، ہیز، ولیمسن اور ٹارنٹ کاؤنٹیز میں ہینوجوسا کو بڑی برتری حاصل ہوئی، جبکہ روایتی طور پر ریپبلکن کاؤنٹیز جیسے کولن اور ڈینٹن میں بھی انہوں نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ الیکشن ڈے کے ووٹوں میں ایبٹ نے کچھ بہتری دکھائی ہے مگر مجموعی طور پر ہینوجوسا کی برتری برقرار ہے۔
52 سالہ جینا ہینوجوسا (اصل نام ریجینا آئنیس ہینوجوسا) ٹیکساس ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی ممبر ہیں اور 2017 سے آسٹن کے 49ویں ضلع کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ وہ میک ایلن/براؤنزویل سے تعلق رکھتی ہیں اور سابق ٹیکساس ڈیموکریٹک پارٹی چیئرمین گلبرٹو ہینوجوسا کی بیٹی ہیں۔ وکیل اور سابق آسٹن اسکول بورڈ کی صدر رہنے والی ہینوجوسا نے اپنی انتخابی مہم عوامی تعلیم کے تحفظ، مہنگائی پر قابو پانے، بجلی کے بلوں میں کمی اور کارپوریٹ ویلفیئر ختم کرنے پر مرکوز رکھی۔ انہوں نے گورنر بننے کے پہلے دن لاگتِ زندگی کی ایمرجنسی نافذ کرنے اور ہر گھر کو 1500 ڈالر کا چیک دینے کا وعدہ کیا تھا۔
گریگ ایبٹ 2015 سے گورنر ہیں اور چوتھی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔ ماضی میں انہوں نے بڑی برتریوں سے جیتا تھا، مگر اس بار مہنگائی، اسکول واؤچر پروگرام اور ڈیٹا سینٹرز جیسے مسائل پر ووٹرز میں ناراضگی نے مقابلہ سخت کر دیا۔ ٹیکساس میں 1994 کے بعد سے کوئی ڈیموکریٹ ریاستی سطح پر نہیں جیتا، اس لیے یہ نتیجہ امریکی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
نتائج ابھی مکمل نہیں ہوئے اور کچھ علاقوں کے ووٹ باقی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں ہینوجوسا کی فتح کے امکانات زیادہ ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوئیں تو یہ ٹیکساس کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
