دنیاکی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج کمپنی بائنانس پر تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ ہوا ہے، ہیکرز نے اربوں ڈالر منتقل کر لئے۔
کمپنی نے اپنے پلیٹ فارم پر تمام تر ڈیپازٹس اور رقم نکلوانے کے عمل کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔
بی بی سی اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے بائنانس کے انٹرنیٹ سے منسلک ہاٹ والٹس کو نشانہ بنا کر محض 15 منٹ کے اندر 8 مختلف بلاک چین نیٹ ورکس کے ذریعے اربوں ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے منتقل کئے۔
بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں نے چوری ہونے والی رقم کا تخمینہ 5.91 ارب ڈالر جبکہ ٹی آر ایم لیبز نے 6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان قرار دیتے ہوئے اسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بینک ڈکیتی قرار دیا ہے۔
یہ حملہ فروری 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے ہونے والی 1.5 ارب ڈالر کی چوری سے چار گنا بڑا ہے، جس کا شبہ ابتدائی انٹیلی جنس کے مطابق شمالی کوریا کے ہیکرز پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ٹیک کرنچ اور بلومبرگ کے مطابق ہیکنگ کی خبر سامنے آتے ہی کرپٹو انڈسٹری نے انتہائی تیز رفتار اور مشترکہ ردعمل کا مظاہرہ کیا، اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی بڑی کمپنی ٹیدر نے ہیکر کے ایڈریس پر موجود 1.56 ارب ڈالر اور سرکل نے 800 ملین ڈالر کو فوری منجمد کر دیا، اب تک 3 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے کامیابی سے فریز کیے جا چکے ہیں تاکہ ہیکرز انہیں کیش نہ کرا سکیں۔
اس سکیورٹی نقب زنی کے بعد بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ اور کمپنی کی شریک بانی یی ہی نے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین کو یقین دہانی کرائی کہ تمام صارفین کے فنڈز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات کو بائناس اپنے ہنگامی انشورنس فنڈ کے ذریعے خود پورا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس ہولناک ہیکنگ کی خبر کے باعث کرپٹو مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہوئی جہاں بٹ کوائن کی قیمت 5 فیصد گر کر 78,000 ڈالر سے نیچے آ گئی جبکہ بائناس کا اپنا ٹوکن ڈی این بی 10 فیصد تک گر گیا ہے۔
کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی، ہیکرز اربوں ڈالرز لے اڑے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
