اسلام آباد(سب نیوز)وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ گورنر راج لگے یا نہ لگے، خیبرپختونخوا کے حالات بہتر کرنا ہوں گے۔
رکن قومی اسمبلی ثمر بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی امن و امان اور منشیات کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کا گراف مسلسل گر رہا ہے، صوبے کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ گورنر راج ایک آپشن تو ہو سکتا ہے، تاہم یہ کوئی چوائس نہیں، گورنر راج لگے یا نہ لگے، خیبرپختونخوا کے حالات بہتر کرنا ہوں گے۔اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے متعلق تمام حقائق آج میڈیا اور قوم کے سامنے رکھ دیے گئے۔
ثمر بلور نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں صوبے میں چرس کی بھرمار ہو رہی ہے اور منشیات کا زہر پورے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے، صرف پشاور سے 960 کلوگرام منشیات پکڑی گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں منشیات کے نامی گرامی سمگلرز اور ڈیلرز پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
گورنر راج لگے یا نہ لگے، خیبرپختونخوا کے حالات بہتر کرنا ہوں گے، اختیار ولی خان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
