ہومتازہ ترینمصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت

مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت

بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران، دونوں فریقوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم اتفاقِ رائے حاصل کیا، جس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے خطرات اور فوائد پر تبادلۂ خیال کے لیے چین-امریکہ اے آئی ڈائیلاگ قائم کیا جائے گا اور بات چیت کا اگلا دور رواں سال نومبر میں ہوگا۔ ساتھ ہی اے آئی سے متعلقہ مسائل کے لیے مواصلاتی چینلز بھی قائم کیے جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر، خطرات کی روک تھام کے ساتھ مواقع کی تلاش کو متوازن رکھنے والا یہ طریقۂ کار بڑی طاقتوں کو مصنوعی ذہانت کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان اتفاقِ رائے کے پیچھے ایک عملی پس منظر موجود ہے۔ اس سال جولائی میں، اوپن اے آئی میں سائبر سکیورٹی ٹریننگ سیشن کے دوران ایک اے آئی ایجنٹ نے جیل بریک ” کرتے ہوئے انسانی ہدایات کے بغیر خود کو تنہائی کے ماحول سے باہر نکالا اور ایک دوسری امریکی کمپنی” Hugging Face کے انٹرپرائز سسٹم میں داخل ہوگیا۔ اس سال جون میں، اسی کمپنی کے ایک اور اے آئی ایجنٹ نے اجازت کے بغیر آسٹریلوی حکومت کے ہیلتھ انشورنس کے اعداد و شمار کے پورٹل تک رسائی حاصل کی، اور کمپنی نے 10 ستمبر تک آسٹریلوی حکومت کو اس واقعے کی اطلاع نہیں دی۔ مصنوعی ذہانت کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے حال ہی میں اس معاملے پر ایک خصوصی بریفنگ جاری کی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اے آئی سے متعلق واقعات قومی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے اور کوئی بھی ملک تنہا تمام خطرات کو حل نہیں کر سکتا۔ آج کی مصنوعی ذہانت بہت پہلے ہی اس مقام تک ترقی کر چکی ہے جہاں یہ خود نیٹ ورک کے کام انجام دے سکتی ہے، اور اس سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی خطرات کاغذی خدشات سے حقیقی دنیا کے چیلنجز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔اسی حقیقت کی بنیاد پر طے پانے والے دونوں میکانزم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور مشترکہ طور پر متعدد عملی اہمیت رکھتے ہیں۔پہلا، مصنوعی ذہانت کے باقاعدہ مکالمے مسابقتی صورتِ حال میں بڑی طاقتوں کو اختلافات کا احترام کرتے ہوئے ایک ساتھ رہنے کے طریقے تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے مختلف بنیادیں رکھتے ہیں اور ان کے طرزِ حکمرانی میں بھی نمایاں فرق ہے۔ امریکی مارکیٹ جدت سے بھرپور ہے، جہاں بڑی تعداد میں جدید ماڈل تیار کرنے والی کمپنیاں موجود ہیں۔ دوسری طرف، چین ادارہ جاتی ذرائع سے پیشگی حفاظتی اقدامات کرنے پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ 14 ستمبر کو چین نے اے آئی سکیورٹی گورننس فریم ورک 3.0 جاری کیا، جس میں اے آئی ایجنٹس کے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے خطرے کے حوالے سے مکمل لائف سائیکل کنٹرول کے لیے تجاویز پیش کی گئیں، جن میں منفرد شناخت، کم از کم ضروری اجازتیں اور کلیدی مراحل پر لازمی انسانی منظوری شامل ہیں۔ اس مرتبہ چین-امریکہ اتفاقِ رائے نے ایجنڈے میں خطرات اور فوائد دونوں کو شامل کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق نہ صرف ڈائیلاگ میکانزم کے ذریعے اپنے اپنے سکیورٹی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں، بلکہ ساتھ ہی صنعتوں کی ترقی اور لوگوں کے روزگار و معاش کی بہتری کے لیے اے آئی کے کردار اور مواقع بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ مقابلہ جاری رہ سکتا ہے، لیکن رابطے کے لیے راستہ کھلا رہنا چاہیے۔ یہی اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کا مفہوم ہے۔دوسرا، اے آئی سے متعلق واقعات کے لیے مواصلاتی چینلز بحران کے دوران غلط فہمیوں کو روکنے کے لیے ہنگامی حفاظتی باڑ” کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اے آئی ایجنٹس نیٹ ورک کی حدود کو عبور کر سکتے ہیں، اور خطرات کا وجود اور پھیلاؤ قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ ایک بار جب اے آئی اپنی حدود سے تجاوز کر جائے تو معلوماتی بلیک باکس آسانی سے شکوک و شبہات کو جنم دے سکتا ہے، اور حتیٰ کہ ایک معمولی تکنیکی خرابی بھی بین الاقوامی سلامتی کے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان مواصلاتی چینلز کا مقصد کسی خطرناک صورتِ حال کے پیش آنے کے بعد بروقت اطلاع اور معلومات کے تبادلے کو ممکن بنانا ہے، تاکہ خطرات سے فعال انداز میں نمٹا جا سکے اور صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔تیسرا، چین اور امریکہ کے درمیان تبادلۂ خیال عالمی اے آئی گورننس کے لیے عملی تجربہ جمع کر سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی ضوابط پر کسی ایک فریق کا قبضہ ہو جائے۔ اقوام متحدہ کی اکیاسیویں جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اے آئی کے قابو سے باہر ہونے کے خطرے کو موسمیاتی بحران کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ایک کثیرالجہتی رسک مینجمنٹ فریم ورک کے قیام پر زور دیا۔ چین اور امریکہ کے درمیان ادارہ جاتی مواصلات کے قیام پر اتفاقِ رائے وسیع تر کثیرالجہتی مشاورت کو مسترد نہیں کرتا۔ یہ کثیرالجہتی کے لیے چین کی دیرینہ وابستگی سے مطابقت رکھتا ہے۔حقیقی اور مؤثر عالمی سکیورٹی گورننس کبھی بھی چند ممالک کے بند دروازوں کے پیچھے ایجنڈا طے کرنے کے بارے میں نہیں ہوتی، بلکہ متنوع آوازوں کو سننے اور سب سے بڑے مشترکہ مفاد کی تلاش کے بارے میں ہوتی ہے۔مصنوعی ذہانت کی خود اپنی حدود سے باہر نکلنے کی صورت میں ممکنہ حفاظتی خطرات موجود ہیں، جبکہ یہ موسمیاتی آفات سے بچاؤ، زرعی پیداوار اور لوگوں کے معاش میں بہتری کے لیے عالمی طور پر فائدہ مند ایک آلے کے طور پر بھی کام کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی خود غیر جانب دار ہے اور خطرات اکثر نگرانی اور ضابطے کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ ہمیں تمام بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کو مدِنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی صحت مند اور منظم ترقی کو فائدہ مند، محفوظ اور منصفانہ سمت میں فروغ دینا چاہیے۔ چاہے یہ نومبر میں شروع ہونے والے مکالمے کا اگلا دور ہو یا اے آئی سے متعلقہ واقعات کے لیے مواصلاتی چینلز، یہ عالمی اے آئی گورننس کے عمل کا حتمی حل نہیں بلکہ صرف نقطہ آغاز ہیں ۔ صرف انسان کو اولین ترجیح دینے اور ذہانت کو بھلائی کے لیے استعمال کرنے، مواصلات اور تعاون میں مسلسل مشغول رہنے، اور پوری اے آئی چین میں انسانی کنٹرول کو یقینی بنانے کے اصولوں کو برقرار رکھنے سے ہی ہم حقیقی معنوں میں مصنوعی ذہانت کو چین، امریکہ اور دنیا کے تمام ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند بنا سکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔