اسلام آباد:(سب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ذاتی حیثیت میں پیش نہ ہونے اور بیماری کا عذر پیش کرنے والے سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کردیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے محمد زمان وٹو سے سات روز میں جواب طلب کرلیا ہے۔عدالت نے محمد زمان وٹو کو ہدایت کی ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔
عدالت نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عدنان علی کو توہینِ عدالت کیس میں پراسیکیوٹر مقرر کردیا۔حکمنامے کے مطابق ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے کو 16 ستمبر کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم وہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے کے بجائے بیماری کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر گئے۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالتی حکم کی مصدقہ نقل پیش کی اور مؤقف اختیار کیا کہ محمد زمان وٹو 16 ستمبر کو بیماری کے باعث اس عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم اسی روز جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔وکیل درخواست گزار نے جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں محمد زمان وٹو کی اسی روز کی حاضری کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ 16 ستمبر کو عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہونا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے رجسٹرار آفس کو توہینِ عدالت کیس کی الگ فائل تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


