ہومپاکستانحرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے ،ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہناچاہئے ،وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب

حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے ،ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہناچاہئے ،وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک (سب نیوز)وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ امن کیلئے پاکستان کی کاوشیں غیر متزلزل ہیں، جب کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جنگ روکنے کے لیے کوششیں قابل تعریف ہیں، جنگ کے باعث دنیا معاشی دبا وکا شکار ہوئی، آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شریانیں ہیں اور امن کی جستجو سب سے مقدس مقصد ہے، پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو ایک ہی چھت کے نیچے جمع کیا اور امریکا و ایران کو میز پر لاکر تاریخی پیش رفت کی،مکہ کی مقدس زمین پر حملوں سے پوری مسلم دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے،مکہ معاہدہ پاکستان کی امن کی خواہشوں کا عکاس ہے اور حرمین شریفین مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر ہے، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے،پاکستان نے بھارت کو ایسا سبق سکھایا ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں جانیں بچیں، جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کا حل ضروری ہے، جب کہ کشمیر میں نسلوں نے غیر قانونی قبضے کے اثرات بھگتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کر رہا ہوں جو میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے، میں پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کر رہا ہوں۔وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔وزیر اعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے، وزیراعظم نے سور الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطی کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دبا میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزی اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔