بیجنگ :بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ کا دورہ امریکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے چین امریکہ تعلقات اور عالمی امن و ترقی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس سے نہ صرف چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات کے موضوعات کو وسیع کیا گیا بلکہ دنیا کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔سینٹر فار چائنا اینڈ یونائیٹڈ سٹیٹس سٹڈیز کے سینئر فیلوسوربھ گپتا کا خیال ہے کہ صدر شی جن پھنگ کا دورہ امریکہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ امریکہ اور چین کو حریف کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار گورننس کے سینئر فیلو ڈینس سائمن نے کہا کہ امریکہ اور چین دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں اور وہ کسی ایسے عالمی مسئلے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے جو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے بغیر بامعنی طور پر حل ہو سکے۔ سلووینیا کے سابق صدر دانیلو ترک نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے دورہ امریکہ نے ایک ذمہ دار بڑے ملک کے تاثر کو ظاہر کیا اور وہ مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں مزید ٹھوس اور موثر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین کی طرف سے پیش کیے جانے والے فارمولے کے منتظر ہیں۔ برازیل کے وزیر زراعت آندرے ڈی پاؤلا نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے ساتھ ساتھ مشترکہ مفادات پر اتفاق رائے کا حصول دنیا کو مستقبل کے حوالے سے مزید امید دے گا ۔
چینی اور امریکی صدور کے درمیان بات چیت نے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں مثبت کردار ادا کیا، عالمی ماہرین
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
