ہوماسلام آبادسی ڈی اے کا ایکسپریس وے کے اطراف تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات کیخلاف آپریشن

سی ڈی اے کا ایکسپریس وے کے اطراف تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات کیخلاف آپریشن

اسلام آباد(سب نیوز)کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے اسلام آباد ایکسپریس وے کے دونوں اطراف تجاوزات، غیر قانونی و غیر مجاز تعمیرات کے خاتمے، بلڈنگ بائی لاز پر عملدرآمد، سرکاری واجبات کی وصولی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بھرپور آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں شعبہ بلڈنگ کنٹرول (بی سی ایس)اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سی ڈی اے نے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ کے اطراف تعمیراتی یونٹس کے خلاف سیلنگ اور ریگولرائزیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس خصوصی مہم کا مقصد اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ کے اطراف غیر قانونی، غیر مجاز اور نان کنفرمنگ تعمیرات کو قانون کے دائرے میں لانا، بلڈنگ بائی لاز پر یکساں عملدرآمد یقینی بنانا، سرکاری ریونیو کا تحفظ اور شہریوں کو محفوظ، منظم اور معیاری شہری سہولیات کی فراہمی ہے۔ یہ کارروائی اسلام آباد کی منصوبہ بندی، تعمیراتی نظم و ضبط اور محفوظ شہری ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے سی ڈی اے کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔تفصیلات کے مطابق، مہم کے دوران اب تک 50 سے زائد خلاف ورزی کرنے والے تعمیراتی یونٹس کے خلاف قابل اطلاق بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ ان میں سوہان تا اقبال ٹاون کی جانب 34 تعمیراتی یونٹس جبکہ کورال بریج تا کورال پولیس اسٹیشن اور گلبرگ گرینز کی جانب 24 تعمیراتی یونٹس شامل ہیں۔ مزید برآں، تعمیراتی یونٹس کو قانونی کارروائی کے لیے نشان زد کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی علاقے کا سروے اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کا عمل تاحال جاری ہے۔سی ڈی اے حکام کے مطابق، سیل کی گئی کمرشل عمارتوں میں بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیاں، نان کنفرمنگ یوز اور فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات کی عدم موجودگی جیسے معاملات سامنے آئے۔ کارروائی سے قبل متعلقہ مالکان اور افراد کو قانون کے مطابق نوٹسز جاری کیے گئے اور انہیں بلڈنگ بائی لاز پر عملدرآمد، غیر مجاز استعمال کی اصلاح، فائر سیفٹی انتظامات کی تکمیل اور اپنی تعمیرات کو ریگولرائز کروانے کے لیے مناسب مہلت فراہم کی گئی۔ انہیں قابل اطلاق قوانین کے تحت واجبات کی ادائیگی اور مطلوبہ منظوریوں کے حصول کے لیے بھی بارہا آگاہ کیا گیا۔سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز میں دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود متعدد مالکان اور متعلقہ افراد نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، نہ ہی مطلوبہ واجبات ادا کیے اور نہ ہی خلاف ورزیوں کا ازالہ کیا۔ چنانچہ مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

سی ڈی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تعمیراتی یونٹ کے خلاف کارروائی قانون، دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی بنیاد پر کی جائے گی۔سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ کے اطراف موجود غیر قانونی اور نان کنفرمنگ کمرشل تعمیرات سے سرکاری ریونیو کے تحفظ، تعمیراتی نظم و ضبط اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے اہم مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ متعدد یونٹس میں بلڈنگ پلان کی منظوری، ریگولرائزیشن فیس اور دیگر قابل اطلاق سرکاری واجبات کی ادائیگی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ، کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات نہ ہونے سے شہریوں، کاروباری افراد اور عمارتوں میں موجود افراد کی جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔سی ڈی اے نے اس امر پر زور دیا ہے کہ فائر سیفٹی محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کمرشل عمارتوں میں منظور شدہ بلڈنگ پلان، محفوظ استعمال، ایمرجنسی راستوں، فائر سیفٹی آلات اور دیگر ضروری حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ متعلقہ شعبہ جات کی جانب سے ان تقاضوں کی تکمیل اور قانونی منظوریوں کے حصول کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق رہنمائی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔سی ڈی اے نے شہریوں، کاروباری افراد اور تعمیراتی یونٹس کے مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں اور کمرشل یونٹس کے بلڈنگ پلان، استعمال، تعمیراتی اجازت ناموں اور فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لیں۔ جہاں ضروری ہو، سی ڈی اے کے متعلقہ شعبہ جات سے قانونی منظوری، ریگولرائزیشن اور دیگر مطلوبہ اجازت نامے حاصل کریں اور سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔سی ڈی اے نے واضح کیا کہ قانون پر عملدرآمد، سرکاری ریونیو کا تحفظ، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور اسلام آباد کو ایک منظم، محفوظ اور خوبصورت وفاقی دارالحکومت کے طور پر برقرار رکھنا ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے غیر قانونی تعمیرات اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔