اسلام آباد: صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور اس کے عالمی و ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباری برادری کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے۔
اپنے بیان میں عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنا عالمی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے حکومت پر زور دیا کہ توانائی کی قیمتوں اور کاروباری لاگت کو قابو میں رکھنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی توانائی ملکی صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تجارت، شپنگ اور انشورنس لاگت میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی عالمی معیشت کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ امریکہ، ایران کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے باعث عالمی تجارت اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس کے اثرات ترقی پذیر معیشتوں پر زیادہ شدت سے مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے متبادل حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ برآمدات میں اضافے اور درآمدی انحصار میں کمی کیلئے نجی شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ توانائی بحران اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت اور بزنس کمیونٹی کو مل کر جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کیلئے معاشی استحکام، کاروباری تسلسل اور صنعت و تجارت کیلئے سازگار ماحول اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری برادری کو درپیش نئے معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ضروری ہے۔ تمام فریق کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کیلئے تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔
