- کاروبار میں آسانی معاشی پالیسی کا محور ہونی چاہیے، نجی شعبہ روزگار اور معاشی ترقی کا اصل محرک ہے
اسلام آباد کے محصولات کا جائز حصہ شہر کی ترقی پر خرچ کیا جائے: سردار طاہر محمود
- کاروبار سیل کرنا آخری اقدام ہونا چاہیے، پہلا نہیں: صدر آئی سی سی آئی
اسلام آباد: سابق وزیراعظم پاکستان اور ملک کے ممتاز سیاسی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی حکمت عملی میں نجی شعبے کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی کیونکہ کوئی بھی حکومت ملک کی پوری آبادی کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد کو سرمایہ کاری بڑھانے، کاروبار وسعت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، کیونکہ ایک کاروبار کی ترقی کے اثرات ملازمین، خاندانوں، حکومتی محصولات اور مجموعی معیشت تک پہنچتے ہیں۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں ایک انٹرایکٹو سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں کاروباری افراد غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر کاروبار کر سکیں، سرمایہ کاری کریں اور اپنے کاروبار کو وسعت دیں۔ انہوں نے چیمبرز آف کامرس کو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان ایک اہم پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانے، ملکی و بین الاقوامی تجارت کے فروغ اور کاروباری مسائل کے حل کے لیے بزنس کمیونٹی سے مؤثر مشاورت ناگزیر ہے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کی منفرد انتظامی و آئینی حیثیت کے پیش نظر اسلام آباد کے لیے ایک واضح، مؤثر اور پائیدار نظامِ حکمرانی ضروری ہے۔ انہوں نے CDA، ICT اور دیگر اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور باہمی رابطے کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی میں ذمہ داری اور جوابدہی کا واضح تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی نمائندگی اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل تجاویز تیار کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے اسلام آباد کے مالیاتی معاملات پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت سے پراپرٹی ٹیکس، ایکسائز، ٹرانسفر فیس اور دیگر مدات میں محصولات وصول ہوتے ہیں، اس لیے شہر کی ترقیاتی ضروریات بھی اسی تناسب سے پوری ہونی چاہئیں۔ انہوں نے پانی، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور دیہی علاقوں کی ترقی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے یقین دلایا کہ اگر اسلام آباد کے لیے کوئی قابلِ عمل اور ٹھوس تجویز سامنے آتی ہے تو وہ اسے متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گے، کیونکہ “کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔”
فائر سیفٹی کے نام پر کمرشل املاک اور کاروبار سیل کرنے کے معاملے پر راجہ پرویز اشرف نے متوازن اور مرحلہ وار طریقہ اختیار کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم حفاظتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے پہلے نشاندہی، سیفٹی آڈٹ، نوٹس اور مناسب مہلت دی جانی چاہیے، جس کے بعد دوبارہ معائنہ کیا جائے اور مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلاامتیاز کاروبار سیل کرنے سے کاروباری سرگرمیاں، روزگار اور سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، اس لیے مسئلے کا حل کاروبار بند کرنا نہیں بلکہ کاروبار کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے۔
اس سے قبل صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے راجہ پرویز اشرف کا چیمبر آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد کی بزنس کمیونٹی کے دیرینہ ساتھی ہیں اور چیمبر کے ابتدائی دور میں بھی ان کا تعلق اور کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے راجہ پرویز اشرف کا تجربہ اور سیاسی اثر و رسوخ انہیں اسلام آباد کے شہریوں اور کاروباری برادری کے مسائل قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر آواز بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ پارلیمنٹ اور متعلقہ فورمز پر اسلام آباد کے حقوق کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کریں گے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد شہرِ اقتدار تو ہے، مگر اس کے شہریوں اور کاروباری برادری کو بااختیار مقامی نمائندگی، واضح اختیارات اور مؤثر فیصلہ سازی کے نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ CDA، ICT اور دیگر اداروں کے درمیان اختیارات کی پیچیدگی کاروباری سرگرمیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے، جبکہ اسلام آباد سے وصول ہونے والے محصولات کا شہر کی ترقی میں مناسب حصہ مختص کرنے کا واضح اور پائیدار طریقہ کار ہونا چاہیے۔
۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ چیمبر ان مسائل کو محض انفرادی شکایات تک محدود رکھنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں، حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں، ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مستقل اور قابلِ عمل حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے لیے کسی بھی نئے انتظامی یا قانونی نظام کی تشکیل سے قبل نچلی سطح سے وسیع البنیاد مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی آئی سی سی آئی کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مگر کاروبار کو بلاوجہ بند کرنے کے بجائے مرحلہ وار اصلاح اور قانون پر عملدرآمد کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ راجہ پرویز اشرف کی حمایت سے چیمبر کی تجاویز کو عملی شکل دینے اور اسلام آباد کو زیادہ بااختیار، خوشحال اور کاروبار دوست شہر بنانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
سیشن کی میزبانی آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے نہایت مؤثر اور خوش اسلوبی سے انجام دی۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سابق صدر محمد اعجاز عباسی، میاں شوکت مسعود، ایگزیکٹو ممبر ذوالقرنین عباسی، سینئر ممبران بابر بھٹی، نعمان بھٹی، ابرار بھٹی، راجہ جمیل، شہریار بٹ، کاروباری و رئیل اسٹیٹ برادری کے نمائندگان اور دیگر اراکین بھی موجود تھے۔
