لاہور(آئی پی ایس ) پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی مشاورت سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام کسی ایک سیاسی جماعت، گروہ یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق عوام کی سہولت، بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور ملکی مستقبل سے ہے، اس معاملے پر فیصلے سیاسی مفادات یا وقتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عوام کو کس نظام سے زیادہ سہولت مل سکتی ہے اور ان کے مسائل ان کی دہلیز پر کس طرح بہتر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں، اگر نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی امور بہتر، عوام کو فوری ریلیف اور حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے تو اس تجویز پر کھلے دل سے غور ہونا چاہیے۔
صدر پاکستان مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ نے انتظامی یونٹس کو مضبوط اور بااختیار بنانے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ڈویژن کو مثر انتظامی یونٹ کا درجہ دے کر اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی نچلی سطح تک منتقل کی جائے تو انتظامیہ اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں اور عام آدمی کے مسائل زیادہ مثر انداز میں حل ہوں گے۔
چودھری شجاعت نے کہا کہ ملک مزید سیاسی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات جیسے اہم قومی معاملات کو محاذ آرائی، الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے نکال کر قومی اتفاقِ رائے کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک میز پر بیٹھیں، انتظامی و آئینی ماہرین اور عوامی نمائندوں کی رائے لیں اور ایسا قابلِ عمل نظام تشکیل دیں جو عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے، انتظامیہ کو مثر بنائے اور ملک کو مضبوط کرے۔صدر پاکستان مسلم لیگ کا مزید کہنا تھا کہ اصل کامیابی کسی سیاسی جماعت کی جیت یا ہار نہیں بلکہ عام پاکستانی کو بہتر انتظامیہ، فوری انصاف، بنیادی سہولیات اور مسائل کے حل کے لیے آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
