لاہور(آئی پی ایس )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کو تو تقسیم کردیا جائے اور باقی صوبوں کو دیکھا تک نہ جائے۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہاکہ میں بڑی صاف بات کرتا ہوں، چھوٹے صوبوں کا حامی ہوں، لیکن جو بھی ہوگا سب کے ساتھ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بہت بار تقسیم ہوا ہے، اب بھی اس کے لیے تیار ہے، لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کا وزیراعلی نکلتا ہے تو اسے واپس آنے میں 2 دن لگتے ہیں، جبکہ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی جا ہی نہیں سکتا۔
قبل ازیں اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر ازسرنو غور کی ضرورت ہے تاہم کوئی بھی اقدام آئین سے ماورا نہیں ہوگا۔
قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کسی نے ہمیں یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم کسی بھی طریقے سے کوئی غیر آئینی اقدام کریں، ہم سب آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا چکے ہیں اور کسی صورت غیر آئینی اقدام نہیں ہونے دیں گے، تاہم آئین کے اندر رہتے ہوئے ہمارے پاس بہت سے اختیارات موجود ہیں۔
