اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک، نتیجہ خیز اور عملی قیادت میں اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بھرپور، بلاامتیاز اور ہمہ گیر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری اراضی اور اربوں روپے مالیت کی سرکاری املاک کو واگزار کرانا، شہری نظم و ضبط کو بحال کرنا اور وفاقی دارالحکومت کو صاف، سرسبز، پائیدار، محفوظ، ماحول دوست اور سیاحت دوست ماڈل شہر میں تبدیل کرنا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت اور ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ و چیف ایگزیکٹو آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ کی سربراہی میں سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی مربوط اور مسلسل کارروائیوں نے ان کوششوں کو نمایاں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ ان مؤثر اقدامات کے اعتراف میں عوامی سطح پر “Well Done Mohsin Naqvi” کے تاثرات سامنے آ رہے ہیں، جو عملی اقدامات، بہتر گورننس اور نتائج پر مبنی طرز حکمرانی کا عکاس ہیں۔
تمام اداروں کا متحدہ اور مربوط کردار
سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی انسدادِ تجاوزات مہم ایک مربوط اور کثیر ادارہ جاتی حکمتِ عملی کے تحت جاری ہے۔ اس عمل میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی عملی نگرانی اور سربراہی میں جبکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر انعم فاطمہ کی نگرانی میں اپنے متعلقہ انفورسمنٹ و فیلڈ آپریشنز انجام دے رہی ہے۔
اس مربوط نظام کے باعث منصوبہ بندی، کارروائی اور نگرانی بیک وقت جاری رہتی ہے، جس سے غیر ضروری تاخیر کم اور کارروائیوں کے نتائج زیادہ مؤثر بن رہے ہیں۔
زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں
**
اس مہم کی نمایاں خصوصیت اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف سخت “زیرو ٹالرنس پالیسی” کا نفاذ ہے۔ اس پالیسی کے تحت کسی بھی فرد، گروہ یا علاقے کے ساتھ امتیاز کے بغیر کارروائی کی جا رہی ہے، جس میں:
- غیر مجاز تجارتی توسیعات؛
- غیر قانونی کھوکھے اور سڑک کنارے اسٹالز؛
- گرین بیلٹس اور سرکاری اراضی پر تجاوزات؛
- فٹ پاتھوں اور پیدل چلنے کی جگہوں پر قبضے؛
- رہائشی املاک کا غیر قانونی تجارتی استعمال؛
- شہری و دیہی علاقوں میں سرکاری اراضی و املاک پر غیر قانونی آبادیاں اور قبضے
شامل ہیں۔
یہ بلاامتیاز پالیسی عوامی اعتماد میں اضافے اور اس اصول کو مضبوط بنانے کا باعث بن رہی ہے کہ ریاستی اراضی پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہے، جس کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد بھر میں ٹارگٹڈ اور مربوط آپریشنز
اسلام آباد کے مختلف اہم اور حساس علاقوں میں مربوط کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نمایاں نتائج درج ذیل ہیں:
سیدپور ولیج
غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی تجاوزات کے خاتمے سے علاقے کی ثقافتی، تاریخی اور ماحولیاتی اہمیت کو بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
نورپور شاہاں
غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی سے عوامی گزرگاہوں اور عوامی مقامات تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔
اسلام آباد ایکسپریس وے
سڑک کے اطراف بڑے پیمانے پر تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک کی روانی بہتر، رش میں کمی اور روڈ سیفٹی میں اضافہ ہوا ہے۔
ترنول
غیر قانونی قبضوں، غیر رسمی آبادیوں اور سرکاری اراضی کے تجارتی غلط استعمال کے خلاف کارروائی کے ذریعے قیمتی سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ شہر کے مختلف بازاروں، رہائشی سیکٹرز، سروس روڈز، گرین بیلٹس اور دیگر علاقوں میں بھی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے یہ مہم کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے اسلام آباد میں مؤثر انداز میں جاری ہے۔
نمایاں نتائج — اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال سرکاری اراضی واگزار
اس مہم کی اہم ترین کامیابیوں میں ہزاروں کنال سرکاری اراضی، املاک اور تجارتی اثاثوں کی واگزاری شامل ہے، جن کی مالیت اربوں روپے ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں:
- سرکاری املاک کو غیر قانونی قبضوں سے محفوظ بنایا گیا؛
- منصوبہ بند شہری ترقی کے لیے قیمتی اراضی دستیاب ہوئی؛
- مستقبل میں تجاوزات کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوئی؛
- فٹ پاتھ اور پیدل گزرگاہیں بحال ہوئیں؛
- پارکس اور گرین بیلٹس کی بحالی میں مدد ملی؛
- ٹریفک کی روانی بہتر اور ٹریفک کے مسائل میں کمی آئی؛
- شہری ماحول میں بہتری پیدا ہوئی۔
یوں اسلام آباد بتدریج اپنی شناخت ایک منصوبہ بند، ماحول دوست، صاف ستھرے اور خوبصورت وفاقی دارالحکومت کے طور پر دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔
عوامی پذیرائی اور گورننس پر مثبت اثرات
انسدادِ تجاوزات مہم کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں:
شفاف کارروائیاں،
مسلسل اور مستقل نفاذِ قانون،
بلاامتیاز کارروائی،
اور فوری و نمایاں نتائج
شامل ہیں۔
شہری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز ان اقدامات کو شہری اور دیہی گورننس میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں قوانین صرف کاغذوں تک محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔
*دنیا کے ماڈل دارالحکومت کی جانب پیش قدمی *
اسلام آباد میں سی ڈی اے، ڈی ایم اے اور ایم سی آئی کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف جاری بلاامتیاز کارروائیوں نے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک اور نتیجہ خیز قیادت کا عملی مظاہرہ پیش کیا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کی شناخت ایک ماڈل دارالحکومت کے طور پر مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
موجودہ رفتار اور تسلسل برقرار رہا تو اسلام آباد کے ایک:
تجاوزات سے پاک،
ماحول دوست،
محفوظ،
پائیدار،
رہائش کے لیے موزوں،
خوبصورت اور
بہتر منصوبہ بند ماڈل دارالحکومت
بننے کی راہ مزید ہموار ہوگی۔
اسلام آباد پہلے ہی اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز ماحول، تاریخی و سیاحتی مقامات اور بہترین جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش شہر ہے۔ “محسن اسپیڈ” تیز رفتار اور نتیجہ خیز گورننس کی علامت کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ عوامی سطح پر “Well Done Mohsin Naqvi” کے تاثرات مربوط حکومتی اقدامات اور نمایاں پیش رفت کے اعتراف کی عکاسی کرتے ہیں۔
قومی معیارِ حکمرانی کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل
وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک قیادت اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی نگرانی میں اسلام آباد میں شہری و دیہی نظم و نسق، قانون کے بلاامتیاز نفاذ اور سرکاری اراضی و املاک کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر ماڈل تشکیل پا رہا ہے۔
سخت نفاذِ قانون، اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی و املاک کی واگزاری، اداروں کے درمیان مضبوط تعاون اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیوں کے ذریعے اسلام آباد بتدریج ایک صاف، سرسبز، محفوظ، خوبصورت، پائیدار، پُرامن اور دنیا کے ایک مثالی دارالحکومت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انسدادِ تجاوزات مہم تاحال جاری ہے اور اس میں نہ صرف غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے بلکہ اچھی حکمرانی، شہری و دیہی ترقی، خوبصورتی، شہری نظم و ضبط اور قانون کے یکساں نفاذ کے حوالے سے پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید قومی معیار قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
اسلام آباد — تجاوزات سے پاک، محفوظ، خوبصورت اور دنیا کا ماڈل دارالحکومت۔
