ہومپاکستانپاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان ریلوے کی ترقی، جدید کاری کے حوالے سے فریم ورک معاہدہ طے پا گیا

پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان ریلوے کی ترقی، جدید کاری کے حوالے سے فریم ورک معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ترقی، بحالی اور جدید کاری کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط اور موثر شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی وژن کے تحت پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان فریم ورک معاہدہ طے پایا ہے۔فریم ورک معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کا معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے تعاون اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ یہ معاہدہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی رہنمائی اور وژن کے تحت طے پایا ہے، جس کا مقصد ریلوے کی بحالی اور جدید کاری کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مثر شراکت داری قائم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان ریلوے کی ترقی کے لیے اس سطح کی شراکت داری ایک اہم پیش رفت ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومتیں پاکستان ریلوے کے ساتھ مختلف منصوبوں میں تعاون کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے صرف سفری سہولت نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑنے والی قومی شناخت ہے، جو ملک میں عوامی رابطہ، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔وفاقی وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ فریم ورک معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریبا 240 کلومیٹر طویل مضافاتی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ ان روٹس میں تقریبا 62 کلومیٹر طویل پشاور، نوشہرہ، جہانگیرہ روٹ، 65 کلومیٹر نوشہرہ، مردان، درگئی روٹ، 51 کلومیٹر نوشہرہ، مردان، چارسدہ روٹ، 30 کلومیٹر نصیرپور (چمکنی) سے جمرود روٹ اور تقریبا 32 کلومیٹر جمرود سے لنڈی کوتل تک سفاری ریلوے روٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور علاقوں کے درمیان ریلوے رابطے کو بہتر بنانا، عوام کو محفوظ اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا اور روزمرہ آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔ ضرورت اور باہمی مشاورت کی بنیاد پر دیگر روٹس اور نئی ریلوے لائنوں کے ممکنہ الائنمنٹس پر بھی غور کیا جائے گا جبکہ نئے روٹس کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کے مختلف آپشنز تلاش کیے جائیں گے۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ معاہدے کا ایک اہم حصہ کوہاٹ سے تھل کے راستے خرلاچی تک تقریبا 192 کلومیٹر طویل نئی اسٹریٹجک ریلوے لائن کی تعمیر ہے۔ یہ منصوبہ علاقائی رابطہ کاری کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے کوریڈور (UAPRC) کے تحت پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت اور آمدورفت کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز بنانے کے لیے مضبوط اور جدید ریلوے روابط ضروری ہیں۔ خرلاچی تک ریلوے رابطہ مستقبل میں خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان کے لیے تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی روابط کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت اہم ریلوے اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی، جس کا آغاز پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ اسٹیشنوں سے کیا جائے گا۔ ان اسٹیشنوں پر بنیادی سہولیات، مسافر خدمات، صفائی، سیکیورٹی اور دیگر ضروری سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو زیادہ آرام دہ اور جدید سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔وفاقی وزیرِ ریلوے نے ریلوے سیفٹی کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانا بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے 9.7 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ 177 غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ اور باقاعدہ کراسنگز میں تبدیل کیا جا سکے۔ خیبر پختونخوا میں موجود 81 غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو بھی مرحلہ وار محفوظ بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ شجرکاری مہمات کے ذریعے ریلوے کی زمینوں اور ماحول کو سرسبز بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ آج کا فریم ورک معاہدہ وفاقی حکومت اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان ریلوے کی ترقی کے لیے مجموعی سمت متعین کرتا ہے۔ وفاق اور صوبے مل کر کام کریں گے تو وسائل کا مثر استعمال، منصوبوں پر تیز عملدرآمد اور عوام تک ان کے ثمرات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کا مقصد صرف ریلوے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا نہیں بلکہ بہتر رابطہ کاری، مسافر سہولیات میں بہتری، ریلوے سیفٹی کا فروغ، انسانی جانوں کا تحفظ اور تجارت و آمدورفت کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ بہتر ریلوے رابطہ بہتر معاشی روابط، مضبوط علاقائی رابطہ کاری اور قومی یکجہتی کی بنیاد بنے گا۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت اور حکومتِ خیبر پختونخوا مل کر اس فریم ورک معاہدے کو عملی منصوبوں میں تبدیل کریں گی تاکہ خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کو ایک جدید، محفوظ، مثر اور باہم مربوط ریلوے نظام کی صورت میں فائدہ پہنچ سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔