چکوال:پنجاب کے شہر چکوال میں 9 سالہ آسٹریلوی شہری ہانیہ احمد کی ہلاکت کی تحقیقات میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ایک کانسٹیبل کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل نے اعلیٰ افسران کی اجازت کے بغیر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔
واقعہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب چکوال میں سی سی ڈی تھانے کے باہر پیش آیا۔ آسٹریلوی شہری عدیل احمد، ان کی اہلیہ اور دو کمسن بچے اپنی کار میں جارہے تھے کہ انہیں دو مسلح افراد نے روک کر لوٹنے کی کوشش کی، اس دوران قریب ہی موجود کانسٹیبل نے عدیل احمد کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کی 9 سالہ بیٹی ہانیہ جاں بحق جبکہ عدیل اور ان کا بیٹا عفان زخمی ہوگئے۔
مذکورہ واقعے کے ایک ہفتے بعد 18 جون کو سی سی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اور پنجاب پولیس کے آئی جی عبد الکریم نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ تحقیقات ایک ہفتے میں مکمل کرلی جائیں گی۔ تاہم تحقیقاتی رپورٹ 28 جولائی کو چالان کی صورت میں پراسیکیوٹر کے دفتر میں جمع کرائی گئی۔
مذکورہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ گزشتہ دنوں پراسیکیوٹر کے دفتر میں جمع کرادی گئی، 200 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق تحقیقات سی سی ڈی چکوال کے سب انسپکٹر محمد عرفان نے کیں۔
رپورٹ کے مطابق ملزم کانسٹیبل نے بیان دیا کہ وہ سی سی ڈی تھانے کے مرکزی دروازے کے قریب کھڑا تھا کہ اسے باہر سے شور سنائی دیا۔ اس نے دیکھا کہ دو مسلح افراد تھانے کے قریب ایک سفید گاڑی کو لوٹ رہے تھے۔ اس دوران ایک مسلح شخص نے اسے دیکھ کر پستول سے فائر کیا، جس پر اس (کانسٹیبل) نے بھی ڈاکوؤں پر فائرنگ کردی۔
اسی دوران گاڑی اسلامیہ چوک کی جانب تیزی سے روانہ ہوگئی، جس کا تعاقب کرنے کے لیے کانسٹیبل نے ایک نجی موٹر سائیکل پر لفٹ لی، تاہم وہ گاڑی تک نہ پہنچ سکا۔
رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی افسر انسپکٹر جہانزیب خان نے کانسٹیبل کے مؤقف کو مسترد کردیا۔ انہوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ کانسٹیبل نے ان کی یا کسی بھی سینئر افسر کی اجازت کے بغیر سرکاری ایس ایم جی سے فائرنگ کی اور پھر بغیر اجازت نجی موٹر سائیکل پر گاڑی کا تعاقب بھی کیا۔ اس وقت تھانے میں موجود تین دیگر اہلکاروں نے بھی انسپکٹر جہانزیب کے بیان کی تصدیق کی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کانسٹیبل کا اپنے دفاع میں فائرنگ کرنے کا دعویٰ حقائق کے بالکل منافی اور مکمل طور پر غلط قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوع سے پستول کے 14 اور کلاشنکوف کے 13 خول برآمد ہوئے۔
رپورٹ میں مجموعی طور پر 34 گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہانیہ، عدیل اور عفان کو لگنے والی گولیوں اور خون کے نمونوں سے متعلق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی حتمی رائے تاحال موصول نہیں ہوئی۔
