نیویارک (آئی پی ایس )امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں کشیدگی اور تناو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ بندی مذاکرات کے لیے ثالثیوں کی سرگرم ہونے کے باوجود اب تک ایران اور امریکا کے بڑوں کے درمیان بیٹھک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔اس عدم اعتماد کے ماحول میں دونوں ممالک کے رہنماوں اور عسکری افسران کی جانب سے لفظی گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے معاملات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کی دھمکی کے جواب میں صدر ٹرمپ کو انتہائی تنگ نظر اور بچکانہ قرار دیدیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے پاس مستقبل کے لیے کوئی طویل المدتی وژن نہیں۔ وہ دور رس نگاہوں اور پیش بینی کے ادراک سے محروم رہنما ہیں۔ایرانی جنرل نے امریکی صدر کو ناقابل بھروسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ میں مستقل مزاجی نہیں اور وہ مستقبل کے لیے قابلِ اعتماد بنیاد فراہم نہیں کرتے۔
