واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
فاکس نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ اس سے قبل بھی ایران کے تیل کے کاروبار، مالیاتی نیٹ ورکس، ہتھیاروں کی خریداری اور پابندیوں سے بچنے کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع معاشی مہم چلا چکی ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے اس مہم کو ’’Economic Fury‘‘ کا نام دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ایرانی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی دسیوں ارب ڈالر کی آمدنی تک رسائی محدود کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا تازہ بیان اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس سے متعلق امریکی اعلان خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا تھا کہ واشنگٹن آئندہ ہفتے کے آغاز میں ایران کے خلاف ایسی سخت پابندیاں اور اقدامات نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ پیغامات کا تبادلہ مذاکرات کا متبادل نہیں۔ دوسری جانب قطر اور پاکستان ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ممکنہ سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس اہم بحری گزرگاہ کی سکیورٹی، بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
