ہومپاکستانکشمیر انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ، شرجیل میمن

کشمیر انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ، شرجیل میمن

اسلام آباد(سب نیوز)وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کشمیر میں پی پی کے ساتھ بدترین دھانلی اور ظلم کیا گیا، یہ فارم 47 کی حکومت ہے اس لیے اس کا حصہ نہیں بنے، میں سمجھتا ہوں کہ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی گننے کا وقت شروع ہوگیا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں پی پی کے امیدواروں کو ہرانے کے لیے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت ور الیکشن کمیشن کا گٹھ جوڑ تھا، بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کو تنبیہ کی تھی کہ ہمارے لیے ان حالات میں کشمیر کے انتخابات کتنے اہم ہیں، بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ترجیح مسلم لیگ ن کی بجائے کشمیریوں کے مفاد کو دی جائے، انتخابات میں مسلم لیگ ن کے مفادات کو ترجیح دی گئی پی پی آخری مرحلے تک میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین میرے ساتھ موجود ہیں جو کشمیر کے انتخابات کو بہت قریب سے دیکھتے رہے ہیں، الیکشن کمیشن ن لیگ ان کی پارٹی بن گیا، 2024 کے انتخابات کی تاریخ کو دہرایا گیا، کہتے ہیں چوری اوپر سے سینہ زوری آپ دھاندلی کریں اور مانیں بھی نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو بتائیں کہ ہم نے کیا کیا دیکھا۔ ہمارا لہجہ ن لیگ والوں جیسا نہیں ہوگا، ہم متعلقہ فورم پر دلیل کے ساتھ بات کریں گے، 27 جولائی کو چوہدری اظہر کی جانب سے اسٹمپنگ کی گئی، ن لیگ کے ورکرز وہاں پر دھاندلی کرتے رہے اور ہم شکایات کرتے رہے ہم اس دن بھی الیکشن کمیشن کو بتاتے رہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ لگ رہا تھا آزاد کشمیر انتخابات میں الیکشن کمیشن ن لیگ کی بی ٹیم ہے، ایک بار پھر 2024 کے انتخابات کو دہرایا گیا، 2024 میں فارم 47 کی حکومت تھی جبکہ آزاد کشمیر میں فارم 47+ کی حکومت ہے، مسلم لیگ ن نے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مثال قائم کی، وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس دیکھی انکو کوئی پشیمانی نہیں ہوئی وفاقی وزرا کا تکبر تھا جو زیادہ دیر چلنے والا نہیں ہے۔بچے بچے کو معلوم ہے کہ انتخابات کیسے ہوئے مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر انتخابات میں کارروائیاں سب نے دیکھی ہیں، ہم بدتمیزی نہیں کرتے ہم دلیل کے ذریعے اپنی بات کو متعلقہ فارمز تک پہنچائیں گے، میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات میں بھی بیشتر شکایات الیکشن کمیشن کو دی گئیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دوران پی پی کی شکایات پر کوئی نوٹس نہ لیا۔وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ ایل اے 9 نکیال میں پی پی ورکر مختار یونس کو شہید کیا گیا، لیگی رہنما فاروق حیدر نے کہا یہ ن لیگ کا ورکر ہے، پہلے ہمارے ورکر کا قتل کیا گیا بعد میں بے حسی کی انتہا یہ کہ کسی کے ورکر کو اپنا ورکر بنا لو اور کل مظفر آباد ڈویژن میں بھی مذاق ہوا، کل ایل اے 27 میں موسم کا بہانہ بنا کر پونگ ملتوی کی گئی، کل ایل اے 27 میں دھوپ تھی موسم چیک کرلیں، ایل اے 27 سے متعلق الیکشن کمیشن نے غلط بیانی کی اگر الیکشن کمشنر ٹی وی پر آکر جھوٹ بول رہا ہے قوم کو گمراہ کررہا ہے تو قانون میں کیا سزا ہوگی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بہت سے پونگ اسٹیشنز پر سامان بھیج ہی نہیں سکا، کل ایل اے 31 میں صدر آزاد کشمیر کے اوپر مسلم لیگ کے گلوں بٹوں نے حملہ کیا، آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو شکایات گئی مگر ایک شخص بھی گرفتار نہ ہوا،جب ایل اے 31 میں ہی خبر ملی کہ پنجاب پولیس اور ان کے لوگ ٹھپے لگا رہے ہیں تو ہمارے لوگ گئے اور سیدھے فائر کیے گئے جب کہ رانا ثنا اللہ ہمارے لوگوں پر فائرنگ ہونے کے واقعہ کا مذاق اڑا رہے ہیں، رانا ثنا اللہ کا تکبر و غرور وہی ہے جو 2018 میں پی ٹی آئی کا تھا۔بیلٹ پیپر دو دن پہلے مسلم لیگ کے امیدواروں کو دے دئیے گئے تھے، کشمیر میں حکومت پی پی کی ہے مگر ایڈمنسٹریٹر کنٹرول وفاقی حکومت کا تھا، صدر آزاد کشمیر پر حملے کی کارروائی نہ ہوسکی، آپ اہنے صدر کو تحفظ نہ فراہم کرسکے، رانا ثنا اللہ آپ لوگ بتائیں کے ایڈمنسٹریشن کیساتھ آپ کیوں ملاقاتیں کررہے تھے؟۔وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ 2024 کے انتخابات کے بعد ہمیں معلوم تھا یہ فارم 47 کی حکومت ہے ہم اسکا حصہ نہیں بنے، پی پی نے عہدوں کی حکومت نہیں کی، پی پی کے پاس تمام عہدے آئینی ہیں انکا کوئی اختیار نہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی گننے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔