ہومپاکستانپاکستان اور ایف اے او کا غذائی تحفظ کے فروغ کیلئے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور ایف اے او کا غذائی تحفظ کے فروغ کیلئے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خوراک و زراعت کی تنظیم(ایف اے او )کے ایشیا و بحرالکاہل کے لیے ڈپٹی ریجنل نمائندے مسٹر رابرٹ سمپسن نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، غذائی تحفظ اور پائیدار زرعی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے ایف اے او کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تنظیم کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور زرعی شعبے اور غذائی نظام کو مضبوط بنانے میں ایف اے او کے تعاون کو قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں نہایت معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، لہذا موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ایف اے او کے مزید تکنیکی تعاون کی ضرورت ہے۔ایف اے او کے وفد نے وفاقی وزیر کو جاری تعاون کے اہم شعبوں سے آگاہ کیا، جن میں ون ہیلتھ پروگرام، غذائی تحفظ، سینیٹری و فائٹو سینیٹری نظام، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت ، پائیدار زرعی میکانائزیشن، دریائے سندھ بیسن پروگرام کے تحت موسمیاتی لچک، اور جی آئی ایس، ریموٹ سینسنگ اور ایگرو میٹرولوجیکل ٹیکنالوجیز کے ذریعے موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کا فروغ شامل ہیں۔مسٹر رابرٹ سمپسن نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اشتراک سے قومی موسمیاتی فورم کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی، جس میں حکومت، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر زرعی شعبے میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

رانا تنویر حسین نے حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خوراک کے تحفظ اورایس پی ایس نظام کو مزید مضبوط بنانے، ناسڈرا کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ تصدیق شدہ بیجوں کے فروغ، زرعی میکانائزیشن اور ذخیرہ گاہوں کی توسیع، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کے قیام، پسماندہ اضلاع میں “ایک ضلع، ایک پیداوار” منصوبے کے نفاذ، مویشیوں کی برآمدات میں اضافے، اور گندم و خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ایف اے او کے وفد نے وزیر کو آگاہ کیا کہ اگرچہ تنظیم کے براہِ راست مالی وسائل محدود ہیں، تاہم وہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے مالی وسائل کے حصول میں بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔ اجلاس میں پاکستان کی غذائی پیداوار، غذائیت کی ضروریات اور پالیسی خلا سے متعلق ایف اے او کی آئندہ پالیسی رپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاوہ ازیں ون کنٹری، ون پرائرٹی پروڈکٹ پروگرام کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت پاکستان چلغوزہ کے ساتھ شریک ہے جبکہ چونسہ آم کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے موسمیاتی لچک، پائیدار زراعت، لائیو اسٹاک کی ترقی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کے کسانوں اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔