اسلام آباد:(سب نیوز) سینیٹر سرمد علی کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایک صحافی کی جانب سے بیوروکریٹس کو “بیوروکرپٹ” لکھنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں این سی سی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ اخبار سے متنازع کالم ہٹا دیا گیا ہے، تاہم اس سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ اب بھی موجود ہے۔
اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر اخبار نے کالم ہٹا دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب وہی مواد سوشل میڈیا پر موجود ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ اخبار میں شائع ہونے والی چیز غلط ہو اور فیس بک پر درست تصور کی جائے۔
پرویز رشید نے کہا کہ یا تو متعلقہ قانون ختم کیا جائے یا پھر اس میں ترمیم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت آسان طریقہ بن گیا ہے کہ اخبار میں خبر یا کالم شائع کیا جائے، بعد ازاں اسے حذف کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ این سی سی آئی اے نے اس معاملے میں صرف نوٹس جاری کیا ہے، ابھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
اجلاس میں صدر نیشنل پریس کلب نے کہا کہ بدقسمتی سے زیادہ تر کارروائیاں صحافیوں کے خلاف کی جا رہی ہیں، جبکہ کوئی بھی ذمہ دار صحافی ثبوت کے بغیر خبر شائع نہیں کرسکتا۔
اس پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر صحافی کے پاس ثبوت موجود ہیں تو وہ متعلقہ اخبارات یا شواہد کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں، جبکہ متعلقہ صحافی کو بھی آکر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے معاملہ مزید جائزے کے لیے پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوانے کا فیصلہ کیا۔
