تجزیہ کاروں، سابق امریکی حکام اور سفارت کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ ایران معاہدے کا سب سے بڑا نقصان اسرائیل کی ایران حکمت عملی کو نہیں بلکہ اس سیاسی برانڈ کو ہو گا جس کی تعمیر پر بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی رہنما کے طور پر کئی عشروں کا وقت صرف کیا۔ یہ برانڈ منفرد انداز میں واشنگٹن کو ایران کے حوالے سے اپنی مرضی کے مطابق جھکا سکتا تھا۔
نیتن یاہو نے اپنی سیاسی شناخت ایک جرأت مندانہ دعوے پر بنائی کہ: وہ تنہا امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر تزویری ہم آہنگی میں رکھ سکتے ہیں۔ ریپبلکن حمایت کے ساتھ انہوں نے خود کو واحد اسرائیلی رہنما کے طور پر پیش کیا جو یکے بعد دیگرے امریکی صدور کو متأثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بات پر اصرار کیا کہ صرف مسلسل فوجی دباؤ ہی سے تہران پر قابو پا سکتا ہے۔
طاقت کے عروج کے دوران انہیں سفارت کاروں نے “امریکہ پر اثر و رسوخ رکھنے والا” قرار دیا – وہ اسرائیلی رہنما جو فون اٹھا کر یہ یقینی بنا سکتا تھا کہ واشنگٹن کا تزویری حساب کتاب اسرائیل سے ہم آہنگ ہو۔ وہ نوٹ کرتے ہیں کہ کسی دوسرے اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کانگریس سے اکثر خطاب نہیں کیا اور نہ ہی امریکی سیاسی نظام میں ایسا پائیدار سیاسی مقام بنایا۔
لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تہران کا عبوری معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیانیہ کس طرح الٹ گیا ہے۔ واشنگٹن کی ایران پالیسی کو تشکیل دینے کے بجائے نیتن یاہو اب اسے قبول کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے تصفیے کی پیروی کر رہے ہیں جو اسرائیلی اعتراضات کو خاصی بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔
نیتن یاہو کو امید تھی کہ جنگ ان کی میراث کو ایران کا مقابلہ کرنے والے رہنما کے طور پر مضبوط کرے گی لیکن اب اسے ایسے تنازعہ کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے جس نے ان کی طاقت کا مرکزی منبع ختم کر دیا۔ بیرونِ ملک تنہائی کا شکار، اپنے قریبی اتحادیوں کی وجہ سے مجبور اور آئندہ انتخابات سے پہلے کمزور حیثیت نے اس سیاسی اثاثے کو ان کا سب سے بڑا بوجھ بنا دیا ہے جس پر انہوں نے اپنا کیریئر تعمیر کیا تھا۔
ایران جنگ کے آغاز میں نیتن یاہو نے حتمی فتح کا وعدہ کیا تھا۔ ایران کے نظامِ حکمرانی کا خاتمہ، لبنان میں حزب اللہ کی شکست اور شمالی اسرائیل کے باشندوں کی محفوظ واپسی — وہ مگر کچھ بھی ممکن نہ بنا سکے۔
امریکہ ایران معاہدہ نیتن یاہو کے لیے ایک فیصلہ کن دھچکا ہے،” ان کے سابق مشیر ایویو بشینسکی نے کہا۔ “وہ نہ صرف ایران سے جنگ ہار گئے ہیں بلکہ انہوں نے ایک دوست کے طور پر ٹرمپ کو بھی کھو دیا ہے۔ وہ اب نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو گئے ہیں بلکہ ٹرمپ کے ساتھ ایک بڑا تنازع شروع ہو گیا ہے۔”
نیتن یاہو کے دفتر نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اس ماہ ایک پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹرمپ سے اپنے تعلقات کو ایسے دوستوں کی شراکت داری قرار دیا جو “زیادہ تر متفق ہوتے ہیں اور بعض اوقات اختلاف کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے پراکسیوں کے خلاف اسرائیل کی “بڑی کامیابیوں” کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایک منظم مہم چلائی گئی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا، ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور یہ کہ اسرائیل کی فوجی قوتیں اس جنگ میں “ناقابلِ یقین شراکت دار” رہی ہیں جس نے “ایرانی حکومت کی فوجی صلاحیتیں ختم کر دیں۔”
لیکن جو وہ چاہتے تھے، ویسا نہیں ہو سکا۔
انہوں نے اپنا سیاسی مستقبل دو مقاصد پر استوار کیا: ایران کی مذہب پرست قیادت کو اگر گرانا ممکن نہیں تو کمزور ضرور کر دینا اور ابراہیم معاہدے کو وسعت دے کر سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانا۔
دونوں میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ ایرانی رہنما اس تنازعے سے طاقتور اور کامیاب ہو کر ابھرے ہیں جبکہ سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانا ان کی دسترس سے ہنوز باہر ہے۔

