اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی کے اہداف پر تاحال حتمی اتفاق نہ ہونے انکشاف ہو اہے۔
حکومتی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی پر مذاکرات جاری ہیں جبکہ اخراجات میں کمی کے حوالے سے وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو بتدریج ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس پرسندھ اورخیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی نئی حکمت عملی پرشدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں کو راضی اور آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے میں وفاقی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126 ارب روپے جبکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 3118 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت صوبائی نوعیت کے منصوبوں کے لیے صرف 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے 786 مجموعی منصوبوں میں سے صرف 6 منصوبوں کے لیے 1.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ صوبے میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے 8.6 ارب روپے علیحدہ مختص کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کو آئندہ برسوں میں پی ایس ڈی پی میں حصہ ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا مطالبہ کیاہے جبکہ صوبوں کو بھی 430 ارب روپے اضافی ریونیوجمع کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت سے جی ڈی پی کا 2 فیصد کے برابر 2900 ارب روپے پرائمری سرپلس حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

