Saturday, May 30, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزمعاہدے پر عملدرآمد کے لیے فیصلہ کن مذاکرات، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی کمیٹی آمنے سامنے

معاہدے پر عملدرآمد کے لیے فیصلہ کن مذاکرات، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی کمیٹی آمنے سامنے

مظفرآباد(آئی پی ایس )آزاد کشمیر میں جاری عوامی مطالبات اور سابقہ معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان اہم مذاکراتی عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ دونوں فریق مختلف عوامی مطالبات، حکومتی وعدوں اور معاہدے کے نکات پر تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں۔

مذاکرات کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو 31 مئی تک کی واضح ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے، اس لیے مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

کمیٹی کے رہنماں نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے سمیت معاہدے میں شامل تمام نکات پر مکمل، مثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے گزشتہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور اب مزید تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ ان وعدوں کی عملی تکمیل پر ہوگا جو عوام سے کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دیرینہ مسائل کا قابل قبول حل نکالا جائے گا۔

دوسری جانب وفاقی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے بھی مختلف مطالبات اور تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں فریق باہمی مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیاسی اور عوامی حلقوں کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاسی فضا بلکہ عوامی مطالبات کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مذاکراتی عمل کے اختتام پر کسی پیشرفت یا مشترکہ اعلامیے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔