بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ طور پر صحافیوں سے ملاقات کی۔بدھ کے روز اس موقع پر شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ صدر پوٹن کا 25واں دورۂ چین ہے، جو چین اور روس کے تعلقات کی اعلیٰ سطح اور خصوصی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گہرے، دوستانہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے، جن میں اہم عالمی اور علاقائی امور پر اسٹریٹجک تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ ان کی اور صدر پوٹن کی مشترکہ اسٹریٹجک رہنمائی میں چین۔روس تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
دونوں ممالک کو امن، ترقی، تعاون اور مشترکہ مفاد کے عالمی رجحان کے مطابق تعلقات کو مزید اعلیٰ معیار کی ترقی کی طرف آگے بڑھانا چاہیے۔ شی جن پھنگ نے اس مقصد کے لیے چار نکات پیش کیے: اول، اعلیٰ معیار کے سیاسی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ایک دوسرے کی اسٹریٹجک حمایت جاری رکھی جائے۔دوم، اعلیٰ معیار کے باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دیتے ہوئے دونوں ممالک کی ترقی اور قومی احیاء میں مشترکہ پیش رفت کی جائے۔سوم، عوامی روابط کو مزید گہرا کر کے دونوں ممالک کی نسل در نسل دوستی کی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے۔چوتھا، عالمی امور میں اعلیٰ معیار کے تعاون کے ذریعے عالمی نظم و نسق کے نظام میں اصلاحات اور بہتری کو آگے بڑھایا جائے۔
ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات کی ترقی کی بنیاد مضبوط اندرونی محرکات پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کا تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں اور نہ ہی جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں اس پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ پوٹن نے مزید کہا کہ روس کو دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر مکمل اعتماد ہے، جبکہ روس اور چین عالمی سطح پر قریبی اسٹریٹجک تعاون جاری رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور عالمی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کرتے رہیں گے۔
