اسلام آباد:(سب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور فیملی ملاقات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے۔
دوران سماعت عدالت میں دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “اے جی صاحب مبارک ہو”، جس پر نوید حیات ملک نے جواب دیا “خبر مبارک سر”۔ نوید حیات ملک نے بتایا کہ وہ بطور ایڈووکیٹ جنرل پہلی بار عدالت میں پیش ہو رہے ہیں اور ابھی چارج سنبھالنا ہے، لہٰذا ایک دن کی مہلت دی جائے کیونکہ معاملہ فوری نوعیت کا نہیں۔
اس پر سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ نہایت اہم ہے کیونکہ بشریٰ بی بی سے فیملی ملاقات بھی نہیں کروائی جا رہی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ منگل کے روز بھی ملاقات نہیں ہوئی اور وہ خود 8 گھنٹے جیل کے باہر کھڑے رہے، جبکہ حکام کی جانب سے کہا گیا کہ معاملہ فون پر سن لیا گیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی سزا یافتہ قیدی ہیں اور جیل مینوئل کے مطابق ہی ان سے ملاقات کروائی جا رہی ہے، تمام امور قواعد کے مطابق ہیں اور وہ ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کریں گے۔ اس دوران ایڈووکیٹ جنرل اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا تو کوئی اور آ جائے گا۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو آج طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے حکم دیا کہ سپریڈنٹ اڈیالہ جیل آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، بصورت دیگر انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ مزید برآں عدالت نے ہدایت کی کہ پیر کے روز بشریٰ بی بی کی بیٹی کی سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کے سامنے ذاتی سماعت کی جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی طبی حالت اور جیل ملاقاتوں سے متعلق تفصیلات بھی طلب کر لیں اور کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی۔
headlines
