کراچی (آئی پی ایس) عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حکومتی پالیسی بالکل غلط ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ گلشن اقبال کے اردو بازار گراؤنڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل پر بات کرنا ضروری ہے کیونکہ کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پر ایک سیاسی جماعت 17 سال سے حکومت کر رہی ہے جبکہ صوبے کو اس کی آبادی کے لحاظ سے وسائل بھی ملتے ہیں، تاہم اس کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے یاد دلایا کہ گلشن اقبال میں 20 سال قبل ایلیویٹڈ ٹرین کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا، مگر آج تک اس پر پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے بی آر ٹی سڑک تاحال نہ بننے کو ایک معما قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ کے ترقیاتی کام کا ٹھیکیدار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور اگر حکومت ایک سڑک بھی نہیں بنا سکتی تو پھر کیا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں عوام کو پانی ٹینکرز کے ذریعے مل رہا ہے۔ اسی طرح سندھ کے دیہی علاقوں کی صورتحال بھی ابتر ہے ۔ پورے صوبے کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہو چکا ہے۔ ان خرابیوں کو دور کرنے کے حل موجود ہیں ۔ حکومت وقت کو جواب دینا ہوگا کہ ہر شہری کو گھر میں پانی کب فراہم کیا جائے گا۔ شہروں میں ہائیڈرنٹ اور ٹینکر مافیا موجود ہے۔ سندھ کے اسکول تباہ حال ہیں۔
سابق وزیراعظم نے صنعتی علاقوں کے مسائل کو بھی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا اثر پورے پاکستان پر پڑتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ سندھ کے وسائل کی رقم کہاں جا رہی ہے ۔ جن کے محلات لندن اور دبئی میں ہوں، ایسے میں صوبہ کیسے ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کے عروج پر ہے۔
انہوں نے فیول کی قیمتوں پر حکومت کی پالیسی کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت بے اختیار ہے ، اس کی پالیسیوں کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ آخر حکومت عوامی مسائل کے حل پر توجہ کیوں نہیں دے رہی۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ 15 لاکھ شہری ملک چھوڑ کر بیرون ممالک جا چکے ہیں ۔ حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لیے واضح حکمت عملی بنانی ہوگی۔ اسلام آباد کو 12 دن تک بند رکھنا پڑا، جس کے باعث اسکول، ہوٹلز اور کاروبار بند رہے ملک کا سیکیورٹی سسٹم کمزور کیوں سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مفتاح اسماعیل نے اپنی وزارت خزانہ کے دور میں سندھ حکومت کو گرین لائین، کے فور اور دیگر منصوبوں کے لیے فنڈز مہیا کر دیے تھے۔ نیشنل فنانس کمیشن کے بعد صوبوں کے پاس بہت پیسے ہیں، یہ کہنا غلط ہے کہ مرکز فنڈ نہیں دیتا ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حکومتی پالیسی بالکل غلط ہے، شاہد خاقان عباسی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
