Saturday, April 25, 2026
ہومبریکنگ نیوزجھوٹی معلومات کے الزام پر گرفتار صحافی فخر رحمان کیس میں اہم پیش رفت

جھوٹی معلومات کے الزام پر گرفتار صحافی فخر رحمان کیس میں اہم پیش رفت

اسلام آباد:(آئی پی ایس) پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار صحافی فخر رحمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود کی عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

سماعت کے دوران وکیل صفائی احد کھوکھر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فخر رحمان پر حکومتی عہدیداران اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم ان کے کردار اور رول کو واضح طور پر متعین نہیں کیا گیا۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ فخر رحمان صحافی ہیں اور انہوں نے اپنی طرف سے کوئی ذاتی بیان جاری نہیں کیا بلکہ علما کی بات کو اپنے ٹوئٹ میں کوٹ اور رپورٹ کیا۔ ان کے مطابق فخر رحمان نے وہی بات شیئر کی جو مولانا صاحب نے کی تھی، اور اسی بنیاد پر انہیں مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

احد کھوکھر نے سوال اٹھایا کہ کیا تفتیشی افسر نے متعلقہ مولانا صاحب کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جن کی بات کو بنیاد بنایا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں اکاؤنٹس نے بھی اسی ویڈیو کو شیئر کیا ہے، تاہم صرف فخر رحمان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

وکیل صفائی نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ کیا مذکورہ مولانا صاحب کے خلاف بھی کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے یا نہیں، اس پہلو کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فخر رحمان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نوٹس کا جواب بھی دیا ہے اور تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فخر رحمان نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے کوئی جھوٹی معلومات نہیں پھیلائیں۔

دوران سماعت یہ بھی بتایا گیا کہ فخر رحمان کا موبائل فون قبضے میں لے لیا گیا ہے تاہم اس میں کوئی خاص ریکوری درکار نہیں ہے۔ وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ فخر رحمان کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔

دوسری جانب این سی سی آئی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ فخر رحمان نے تسلیم کیا ہے کہ ٹوئٹ انہی کا ہے، تاہم انہوں نے موبائل کا پاس ورڈ فراہم نہیں کیا جس سے ڈیجیٹل مواد کی تصدیق کرنی ہے۔

پراسیکیوشن نے عدالت سے فخر رحمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔