Thursday, April 23, 2026
ہومبریکنگ نیوزدنیا کو تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کا سامنا ہے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی

دنیا کو تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کا سامنا ہے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی

لوزان (آئی پی ایس )بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کو تاریخ کے سب سے بڑے توانائی تحفظ کے خطرے کا سامنا ہے جس سے عالمی توانائی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔فاتح بیرول نے سنگاپور میں ہونے والے بین الاقوامی سطح کی کانفرنس و بزنس ایونٹ کنورج لائیو ایونٹ کے دوران سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیاں پہلے ہی روزانہ تقریبا 13 ملین بیرل تیل کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہیں جبکہ اہم کموڈیٹیز میں بھی شدید خلل پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر توانائی کا بحران تاریخ کا سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل تجارت کا مرکزی راستہ ہے۔آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل روزانہ تقریبا 20 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں، لیکن اب صورتحال ڈبل بلاکیڈ جیسی ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی فریق کو آزادانہ آمد و رفت کی اجازت نہیں۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اس آبنائے کو دنیا کے سب سے اہم تیل ٹرانزٹ راستوں میں سے ایک قرار دیا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اگر یہ راستہ مکمل طور پر بند رہا تو عالمی اقتصادی ترقی سست پڑ سکتی ہے مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور کئی ممالک کو توانائی کی راشننگ پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

فاتح بیرول نے یورپ میں جیٹ فیول کی شدید کمی کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔ ان کے مطابق یورپ اپنی تقریبا 75 فیصد جیٹ فیول سپلائی مشرق وسطی کی ریفائنریز سے حاصل کرتا ہے جو اب تقریبا بند ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ اب امریکا اور نائجیریا جیسے ممالک سے متبادل سپلائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر صورتحال نہ سنبھلی تو فضائی سفر پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے مارچ میں 400 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ریزروز سے جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم بیرول نے خبردار کیا کہ یہ اقدام صرف وقتی ریلیف دے سکتا ہے، مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ان کے مطابق اصل حل آبنائے ہرمز کی بحالی ہے کیونکہ صرف اسٹاک ریلیز سے بحران ختم نہیں ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔