Tuesday, April 21, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزسردار ایاز صادق: پارلیمانی سفارت کاری کا پشتیبان

سردار ایاز صادق: پارلیمانی سفارت کاری کا پشتیبان

تحریر: محمد محسن اقبال


جمہوری طرزِ حکمرانی کی اس درخشاں روایت میں، جہاں عوام کے منتخب نمائندے ایک باوقار اجتماع میں جمع ہو کر اقوام کی تقدیر کے نقوش ترتیب دیتے ہیں، پارلیمان ایک مقدس انجمن کی حیثیت رکھتی ہے—ایسی انجمن جہاں بحث و تمحیص کے چراغ روشن ہوتے ہیں، آرزوؤں کو زبان ملتی ہے اور ایک روشن تر مستقبل کی جستجو میں فکری بنیادیں استوار کی جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عام آدمی کے دکھ سکھ اور امیدیں اظہار پاتی ہیں اور جہاں استحکام و ترقی کے خواب حکمت و دانائی کے ساتھ حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ پارلیمانی نظام اجتماعی بصیرت کے چراغ کے طور پر نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چنانچہ یہی سبب تھا کہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں اہم امن مذاکرات کی قیادت کی، اور یوں یہ ثابت کیا کہ قانون ساز اداروں کی آوازیں نازک ترین عالمی معاملات میں بھی فاصلے کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح اقوامِ عالم نے ہمیشہ اس امر کی قدر کی ہے کہ پارلیمانیں مشترکہ مقاصد کے لیے یکجا ہوں، اور اس ضمن میں بین الاقوامی پارلیمانی اتحاد (آئی پی یو) ایک معزز عالمی پلیٹ فارم کے طور پر نمایاں ہے، جہاں عصرِ حاضر کے اہم مسائل پر سنجیدہ مکالمہ کیا جاتا ہے۔
استنبول میں منعقد ہونے والا 152 واں اجلاس، جس کی میزبانی ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے کی، پارلیمانی سفارت کاری کے امکانات اور اس کی حدود—دونوں کا ایک واضح عکس پیش کرتا ہے، خاص طور پر ایسے دور میں جب دنیا مسلسل تنازعات اور بدلتے ہوئے طاقت کے توازن سے دوچار ہے۔ اجلاس کا مرکزی عنوان—امید کی آبیاری، امن کا تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے انصاف کی فراہمی—عالمی بے چینی کے ماحول میں ایک بامعنی صدا بن کر ابھرا۔ مذاکرات میں بعد از تنازعہ حکمرانی، پائیدار امن کی بحالی، اور ایک زیادہ منصفانہ اور مستحکم عالمی معیشت کی تشکیل جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے، جن میں کارپوریٹ ٹیکس سے بچاؤ کی روک تھام بھی شامل تھی۔ یہ مباحث اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ پارلیمانوں کو محض خطابت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عالمی تقسیم کو کم کرنے اور مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
تاہم، پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپنے خطاب میں بجا طور پر نشاندہی کی کہ آٹھ دہائیوں قبل قائم ہونے والا بین الاقوامی نظام آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ مسلسل جنگیں، جبری نقل مکانی، اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کا امتیازی اطلاق عالمی اداروں پر اعتماد کو کمزور کر رہا ہے، جس سے زیادہ ہمہ گیر اور منصفانہ سفارتی طریقہ? کار کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔ پاکستان کی شرکت نے ان چیلنجز کے مقابل ایک اصولی مگر حقیقت پسندانہ مؤقف پیش کیا۔ اپنے پارلیمانی رفقا کے ہمراہ، سردار ایاز صادق نے اس فورم پر اسلام آباد کے دیرینہ مؤقف کو وضاحت اور استقامت کے ساتھ پیش کیا۔


جموں و کشمیر کے مسئلے پر انہوں نے ایک بار پھر اس امر کا اعادہ کیا کہ اس متنازع خطے کی حتمی حیثیت کا تعین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، اور یکطرفہ اقدامات و جارحانہ طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کشمیر کے حوالے سے سردار ایاز صادق کی آواز ہمیشہ عزم کی پختگی اور یقین کی استواری سے لبریز رہی ہے۔ یہی وہ ایاز صادق ہیں جنہوں نے 2015 میں بلا تردد یہ اعلان کیا تھا کہ کشمیر پر پاکستان کا اصولی مؤقف کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے اجلاس سے بھی زیادہ اہم ہے، اور اسی دوٹوک انداز میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے اسپیکر کو اسلام آباد مدعو نہیں کیا جائے گا۔


دریائے سندھ کے آبی معاہدے کے حوالے سے ان کے ریمارکس—جن میں اس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا—خاصی اہمیت کے حامل تھے، کیونکہ یہ معاہدہ خطے کے استحکام کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا پہلے ہی نازک جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔


فلسطین کے مسئلے پر بھی اسپیکر کا مؤقف نہایت واضح اور بے لاگ تھا۔ انہوں نے گزشتہ دو برسوں میں شہید ہونے والے اکہتر ہزار سے زائد فلسطینیوں—جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے—کا ذکر کرتے ہوئے قبضے، بے دخلی اور منظم تشدد کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اقوامِ متحدہ کی حالیہ کوششوں اور غزہ امن منصوبے جیسے سفارتی امکانات کا بھی اعتراف کیا، جن کی حمایت امریکہ سمیت متعدد عرب و اسلامی ممالک کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کا مستقل مؤقف ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی ہے، جس کے دارالحکومت کے طور پر القدس الشریف ہو اور جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کی بنیادوں پر استوار ہوں۔


سردار ایاز صادق نے پارلیمانی سفارت کاری پر پاکستان کے غیر متزلزل یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتماد سازی، تعاون کے فروغ اور تنازعات کے حل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول—طاقت کے استعمال سے اجتناب، حقِ خودارادیت، خودمختار مساوات، علاقائی سالمیت کا احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، اور تنازعات کا پرامن حل—بین الاقوامی طرزِ عمل کے ناقابلِ تزلزل ستون ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق پائیدار امن طاقت کے مظاہروں سے نہیں بلکہ صبر آزما مکالمے، باہمی احترام اور شمولیتی رویوں سے جنم لیتا ہے۔ افسوس کہ ان اصولوں پر عملدرآمد اکثر یا تو سست روی کا شکار رہا ہے یا پھر امتیازی انداز میں کیا گیا ہے۔


پاکستان کی شرکت کا ایک نمایاں پہلو حالیہ سفارتی پیش رفتوں پر اس کا زور تھا۔ اسپیکر صادق نے ایران اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی اپیل پر مثبت ردعمل کو سراہا، جو وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا، جو تعمیری ماحول میں انجام پائے اور خطے میں مسلسل مکالمے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان کے اس ابھرتے ہوئے کردار کی عکاس ہے جس کے تحت وہ مخالف فریقین کے درمیان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔


افغانستان کے حوالے سے انہوں نے محتاط حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات پر تشویش ظاہر کی، تاہم ساتھ ہی مکالمے کی ترجیح کو بھی برقرار رکھا۔ موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی نازک صورتحال اور قومی سطح پر کیے جانے والے اقدامات—جیسے ماحولیاتی نظام پر مبنی سیلابی نظم و نسق اور گرین اکانومی کے اقدامات—کو عالمی ذمہ داری کے تناظر میں پیش کیا۔


اجلاس کے علاوہ، مختلف ممالک کے اسپیکرز اور رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں نے پاکستان کی پارلیمانی سفارت کاری کو مزید تقویت دی۔ ازبکستان، عمان، قطر، ترکی، مالدیپ اور روس کے نمائندوں سے روابط نے نہ صرف دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا بھی گیا۔ خصوصاً عمان اور قطر کے رہنماؤں نے ان اقدامات کو امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر اور اتحاد کے لیے ایک مثال قرار دیا۔


تجزیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو آئی پی یو اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی اس کی سفارتی حکمتِ عملی کی گہرائی اور توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اصولوں کا مسلسل حوالہ دیتے ہوئے اور ان کے امتیازی اطلاق کی نشاندہی کر کے پاکستان نے خود کو ایک ایسے عالمی نظام کے حامی کے طور پر پیش کیا جو اصولوں پر مبنی ہو، اگرچہ عملی دنیا میں اس کی تکمیل ابھی ادھوری ہے۔ تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ ان بیانات کو عملی اقدامات میں کیسے ڈھالا جائے، جس کے لیے مستقل مزاجی، داخلی ہم آہنگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان مہارت سے توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے۔


ایسے دور میں جب عالمی فورمز اکثر محض بازگشت گاہ بن کر رہ جاتے ہیں، استنبول کا یہ اجلاس اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ پارلیمانی مکالمہ اب بھی عالمی بیانیے میں نئی روح پھونک سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ ایک بالغ نظر، امن پسند خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کرے اور کشمیر، فلسطین اور علاقائی سلامتی جیسے بنیادی قومی مفادات کو مؤثر انداز میں پیش کرے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا یہ کاوشیں عملی پیش رفت میں ڈھل سکیں گی—کیونکہ امید کی آبیاری اور انصاف کی فراہمی کا اصل امتحان الفاظ نہیں بلکہ ان کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات میں مضمر ہوتا ہے

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔